:
Breaking News

مغربی بنگال انتخابات: پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر سخت مقابلہ، ای وی ایم خرابی اور کشیدگی کے باوجود ووٹنگ جاری

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کے تحت 152 اسمبلی نشستوں پر سخت سیاسی مقابلے کے درمیان ووٹنگ جاری ہے۔ کئی مقامات پر ای وی ایم خراب ہونے سے رکاوٹیں، جبکہ کچھ علاقوں میں تشدد اور افرا تفری کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت آج 152 نشستوں پر سخت سیاسی مقابلہ جاری ہے، جہاں صبح سے ہی ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر موجود ہے۔ ریاست بھر میں جمہوری جوش و خروش واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے اور کئی مقامات پر لمبی قطاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اس انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبح 9 بجے تک اوسطاً 18.76 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو انتخابی عمل کے ابتدائی مرحلے میں عوامی شرکت کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم اسی دوران مختلف اضلاع میں تکنیکی مسائل اور انتظامی مشکلات نے ووٹنگ کے عمل کو متاثر بھی کیا ہے۔

مختلف اضلاع میں ای وی ایم خرابی سے ووٹنگ متاثر

ریاست کے کئی حصوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں خرابی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث متعدد پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ عارضی طور پر روکنی پڑی۔

مرشد آباد ضلع کے بیلڈانگا علاقے کے پارسلیکا مدن موہن پرائمری اسکول میں بوتھ نمبر 156 پر ای وی ایم خراب ہونے کی وجہ سے ووٹنگ معطل کر دی گئی۔ اسی طرح شمشیر گنج کے بوتھ نمبر 212 پر ووٹنگ مقررہ وقت پر شروع نہیں ہو سکی۔

کنڈی علاقے کے بوتھ نمبر 130 میں بھی تکنیکی خرابی کے باعث تاخیر سے ووٹنگ شروع کی گئی، جس سے ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نندی گرام اور دیگر علاقوں میں بھی تکنیکی مسائل

مشرقی مدنی پور کے نندی گرام علاقے کے بیرولیا میں بھی ای وی ایم میں خرابی کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے ووٹنگ متاثر ہوئی۔ اسی طرح کُوچ بہار کے ٹاؤن ہائی اسکول کے بوتھ نمبر 229 پر تقریباً ایک گھنٹے تک ووٹنگ بند رہی۔

مالدہ کے حبیب پور علاقے کے بوتھ نمبر 231 پر بھی ووٹنگ میں تاخیر دیکھنے میں آئی، جبکہ دارجلنگ کے سلی گڑی میں مارجریٹ اسکول کے بوتھ نمبر 26/31 پر ای وی ایم خرابی کے باعث پولنگ دیر سے شروع ہوئی۔

جھارگرام میں ہاتھی آنے سے افرا تفری

انتخابات کے دوران ایک غیر معمولی واقعہ جھارگرام ضلع میں پیش آیا، جہاں ایک پولنگ بوتھ کے قریب ہاتھی کے آنے سے کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن ووٹرز میں وقتی طور پر بے چینی ضرور پیدا ہوئی۔

پولنگ سے قبل رات میں تشدد کے واقعات

ووٹنگ سے ایک رات قبل بھی مختلف علاقوں میں کشیدگی اور تشدد کی خبریں سامنے آئیں۔ مرشد آباد کے ناؤدا علاقے میں شیونگر پرائمری اسکول کے قریب مبینہ طور پر دیسی بم پھینکے گئے، جس میں ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

اسی علاقے میں موجود سیاسی امیدوار شاہینہ ممتاز خان محفوظ رہیں، تاہم واقعے نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا۔

مقامی سیاسی حلقوں کے مطابق مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں، جبکہ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

کُوچ بہار اور مرشد آباد میں مزید جھڑپیں

کُوچ بہار کے سیتالکچی اور مرشد آباد کے ڈومکل علاقے میں بھی رات کے وقت جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک کسان تنظیم کے رہنما پر گھر واپسی کے دوران حملہ کیا گیا جبکہ سی پی ایم کے ایک کارکن اور ان کے بیٹے پر بھی حملہ ہوا، جس میں بیٹا شدید زخمی ہو گیا۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹی ایم سی کارکن کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

سیکورٹی کے سخت انتظامات

انتخابی ماحول کو قابو میں رکھنے کے لیے مرکزی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نے تمام واقعات کی رپورٹس طلب کرتے ہوئے سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق پورے انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

آئندہ مرحلے اور نتائج کا شیڈول

اس مرحلے کے بعد ریاست کی باقی 142 نشستوں پر ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے رجحانات آئندہ مرحلوں کے سیاسی نقشے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *