:
Breaking News

عام آدمی پارٹی میں بڑی دراڑ، راگھو چڈھا سمیت کئی رہنما بی جے پی میں شامل

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

ٹوٹ، راگھو چڈھا کے استعفے کے بعد کئی رہنما بی جے پی میں شامل ہونے کا دعویٰ، کھلاڑیوں کی سیاست میں انٹری بھی موضوع بحث۔

ہندوستان کی سیاست میں اس وقت ایک بڑی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں راگھو چڈھا کے استعفے کے اعلان کے بعد عام آدمی پارٹی (AAP) کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، راگھو چڈھا نے نہ صرف پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شامل ہونے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی دیگر اہم رہنما بھی ان کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہے ہیں، جس نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔

پارٹی میں بغاوت یا سیاسی حکمت عملی؟

راگھو چڈھا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اور ان کے ساتھ دیگر ارکانِ راجیہ سبھا آئینی دفعات کے تحت اجتماعی طور پر پارٹی سے علیحدہ ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، پارٹی اپنے اصل نظریات سے ہٹ چکی ہے اور اب وہ قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے نیا سیاسی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

اگرچہ ان دعووں کی مکمل تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے، لیکن اس خبر نے دہلی کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ خاص طور پر اروند کیجریوال کی قیادت والی پارٹی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

ہربھجن سنگھ کا نام بھی شامل

اس معاملے میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ کا نام بھی بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں لیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے ہربھجن سنگھ کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ہربھجن سنگھ، جو ماضی میں اے اے پی کے ساتھ سیاست میں داخل ہوئے تھے، ان کا نام اس فہرست میں آنے سے سیاسی مبصرین کے درمیان نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

کھلاڑیوں کا سیاست کی طرف رجحان

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی کھلاڑی نے سیاست میں قدم رکھا ہو یا کسی بڑی سیاسی جماعت کا حصہ بنا ہو۔ ہندوستان میں کئی نامور کھلاڑی سیاست کے میدان میں آ چکے ہیں اور کچھ نے تو نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو اس کی ایک بڑی مثال ہیں، جنہوں نے بی جے پی سے سیاست کا آغاز کیا، بعد میں کانگریس میں شامل ہوئے اور پھر اپنی الگ راہ بھی اختیار کی۔

اسی طرح راجیہ وردھن سنگھ راٹھوڑ نے اولمپک میں تمغہ جیتنے کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور بی جے پی کے اہم رہنما بن کر ابھرے۔

خواتین کھلاڑی بھی پیچھے نہیں

سائنا نہوال جیسی عالمی شہرت یافتہ بیڈمنٹن کھلاڑی نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھیلوں کی دنیا سے سیاست میں آنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح گوتھم گمبھیر نے بھی کرکٹ کے میدان سے نکل کر سیاست میں کامیابی حاصل کی اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

مختلف جماعتوں کے درمیان کھلاڑیوں کی نقل و حرکت

کچھ کھلاڑی ایسے بھی ہیں جنہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کیا۔ مثال کے طور پر کرتی آزاد نے بی جے پی، کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اپنی سیاسی اننگز کھیلی۔

اسی طرح باکسر وجیندر سنگھ نے کانگریس سے سیاست کا آغاز کیا، لیکن بعد میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔

دیگر نمایاں نام

ہندوستانی سیاست میں کئی دیگر کھلاڑی بھی سرگرم رہے ہیں، جن میں یوگیشور دت، کلیان چوبے اور لیئنڈر پیس شامل ہیں۔

ان تمام مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کھیل اور سیاست کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جا رہا ہے اور کھلاڑی اب ملک کی سیاسی سمت طے کرنے میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیاسی اثرات اور مستقبل کی صورتحال

عام آدمی پارٹی میں ممکنہ ٹوٹ اور بی جے پی میں شمولیت کی خبریں آنے والے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں، یہ پیش رفت سیاسی توازن کو بدل سکتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف دہلی بلکہ قومی سطح پر بھی ایک بڑا سیاسی موڑ ثابت ہوگا۔

نتیجہ

ہندوستانی سیاست میں جاری یہ ہلچل اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی منظرنامہ مسلسل بدل رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے اندرونی اختلافات اور بی جے پی کی توسیعی حکمت عملی مستقبل میں مزید بڑی تبدیلیوں کا اشارہ دے رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ خبریں کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں اور ان کا سیاسی نظام پر کیا اثر پڑتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *