:
Breaking News

وزیر اعظم مودی کا حیدرآباد دورہ: 9400 کروڑ کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد، ترقی اور سیاست ایک اسٹیج پر

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg


وزیر اعظم نریندر مودی نے حیدرآباد میں 9400 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے سیاسی و ترقیاتی بیانات نے بھی سب کی توجہ حاصل کی۔

بھارت کے وزیر اعظم Narendra Modi نے اپنے تلنگانہ دورے کے دوران ریاست کو ترقیاتی اعتبار سے ایک بڑی پیش رفت کا تحفہ دیا۔ اپنے ایک روزہ دورے میں انہوں نے جہاں کرناٹک کے شہر Bengaluru میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا، وہیں تلنگانہ کے دارالحکومت Hyderabad میں 9400 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔
یہ دورہ نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اہم رہا بلکہ سیاسی سطح پر بھی کافی توجہ کا مرکز بنا۔ حیدرآباد ایئرپورٹ پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ریاست کے وزیراعلیٰ Revanth Reddy بھی اسٹیج پر موجود تھے، جس نے اس تقریب کو مزید اہمیت دی۔
9400 کروڑ کے منصوبے: تلنگانہ کے لیے ترقی کی نئی راہ
وزیر اعظم مودی نے حیدرآباد میں جن ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، ان کی مجموعی مالیت تقریباً 9400 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبے بنیادی طور پر ریاست میں انفراسٹرکچر، سڑکوں، ریلوے اور جدید رابطہ نظام کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔
مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں مرکزی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جدید رابطہ نظام کو فروغ دینا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں، ریلوے اور ہوائی اڈوں کی ترقی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے، تاکہ ملک کے ہر حصے کو بہتر طریقے سے جوڑا جا سکے۔
قومی شاہراہوں اور ریلوے میں تاریخی سرمایہ کاری
وزیر اعظم نے کہا کہ صرف قومی شاہراہوں کی ترقی پر ہی تقریباً 1.75 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں آمد و رفت کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں تلنگانہ میں قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک تقریباً دوگنا ہو گیا ہے۔
ریلوے کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش سے علیحدگی سے پہلے اس خطے کا ریلوے بجٹ ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھا، جبکہ اب صرف تلنگانہ کا ریلوے بجٹ تقریباً 5500 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کی ریلوے اسکیمیں جاری ہیں، جو مستقبل میں ترقی کی نئی راہیں کھولیں گی۔
اسٹیج پر سیاسی بیانات اور ترقی کا نیا وژن
اس تقریب میں ایک اہم لمحہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے ماضی اور مستقبل کے ترقیاتی ماڈلز کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے اور نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، اس وقت گجرات ماڈل کی بہت بات کی گئی تھی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ اب تلنگانہ بھی ایک نئے ترقیاتی ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد آنے والے برسوں میں ریاست کو ایک مضبوط اقتصادی مرکز بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کا ہدف ہے کہ 2034 تک تلنگانہ کی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچایا جائے اور ملک کی مجموعی جی ڈی پی میں 10 فیصد حصہ ڈالا جائے۔
“جدید رابطہ نظام” پر حکومت کی توجہ
وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید بھارت کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر اور بہتر رابطہ نظام پر ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ہر سطح پر سرمایہ کاری کر کے ملک کو ترقی کی نئی سمت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکیں، ریلوے لائنیں اور ہوائی اڈے صرف سفر کے ذرائع نہیں بلکہ معاشی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے مطابق جتنا بہتر رابطہ نظام ہوگا، اتنی ہی تیزی سے معیشت ترقی کرے گی۔
تلنگانہ کے لیے مستقبل کا وژن
تلنگانہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کریں گے بلکہ صنعتی ترقی کو بھی نئی رفتار دیں گے۔
ریاست میں انفراسٹرکچر کی بہتری سے سرمایہ کاری کے امکانات بڑھیں گے اور حیدرآباد کو ایک بڑے اقتصادی مرکز کے طور پر مزید مضبوط کیا جا سکے گا۔
نتیجہ: ترقی اور سیاست ایک ساتھ
حیدرآباد میں منعقد یہ پروگرام صرف ایک ترقیاتی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں ترقیاتی منصوبے اور سیاسی وژن دونوں ایک ساتھ سامنے آئے۔ وزیراعظم کے دورے نے ایک طرف ترقیاتی رفتار کو اجاگر کیا تو دوسری طرف ریاستی اور مرکزی قیادت کے درمیان مستقبل کی اقتصادی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی۔
یہ دورہ تلنگانہ کے لیے آنے والے برسوں میں ترقی کے ایک نئے دور کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *