:
Breaking News

گجرات حکومت کا بڑا فیصلہ، گنے کے کاشتکاروں اور شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو 1500 کروڑ روپے کا فائدہ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

گجرات حکومت نے 2007-08 سے 2014-15 کے دوران شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں کی جانب سے گنا کسانوں کو دی گئی اضافی قیمتوں کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے دو لاکھ سے زائد کسانوں اور شوگر سوسائٹیوں کو بڑا مالی فائدہ ہوگا۔

گجرات حکومت نے ریاست کے گنا کسانوں اور شوگر کوآپریٹو شعبے کو بڑی راحت دیتے ہوئے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے سال 2007-08 سے 2014-15 کے درمیان شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں کی جانب سے کسانوں کو ادا کی گئی اضافی گنے کی قیمتوں کو سرکاری منظوری دے دی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد نہ صرف ریاست کی شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو تقریباً 1500 کروڑ روپے کے ممکنہ مالی بوجھ سے راحت ملے گی بلکہ دو لاکھ سے زائد گنا پیدا کرنے والے کسانوں کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

ریاست کے وزیر زراعت و تعاون جیتوبھائی واگھانی نے اس اہم فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ملک کی شوگر ملیں مرکز کی جانب سے مقرر کردہ مناسب و منافع بخش قیمت یعنی ایف آر پی (FRP) کے مطابق گنا کسانوں کو ادائیگی کرتی ہیں، لیکن گجرات کی شوگر کوآپریٹو سوسائٹیاں صرف چینی کی پیداوار تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے مولاسس، ایتھنول اور کو-جنریشن کے ذریعے بجلی پیدا کرنے جیسے اضافی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا فائدہ بھی براہِ راست کسانوں تک پہنچایا، جس کے سبب گجرات کے کسانوں کو دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ قیمتیں حاصل ہوتی رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں محکمہ انکم ٹیکس نے ایف آر پی سے زیادہ دی گئی قیمتوں کو منافع تصور کرتے ہوئے مختلف شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو ٹیکس ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے تھے۔ سال 2007-08 سے 2014-15 کے درمیان دی گئی اضافی ادائیگیوں کو بنیاد بنا کر ریاست کی شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں پر تقریباً 1500 کروڑ روپے کے اضافی مالی بوجھ کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، جس کے باعث کوآپریٹو شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

جیتوبھائی واگھانی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں الگ وزارتِ تعاون کے قیام اور مرکزی وزیر تعاون امت شاہ کی نگرانی میں سال 2023 میں انکم ٹیکس قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ ان ترامیم کے تحت ریاستی حکومتوں کی جانب سے منظور شدہ گنے کی قیمتوں کو قانونی حیثیت فراہم کی گئی، جس کے بعد اب گجرات حکومت نے بھی اس معاملے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کسانوں کو ادا کی گئی اضافی قیمتوں کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

ریاستی حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اس معاملے پر سفارشات تیار کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ شوگر کوآپریٹو سوسائٹیوں کی جانب سے کسانوں کو دی گئی اضافی ادائیگیوں کو مکمل قانونی منظوری فراہم کی جائے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف کوآپریٹو شعبہ مزید مضبوط ہوگا بلکہ کسانوں کی معاشی حالت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گجرات میں شوگر کوآپریٹو ماڈل کئی برسوں سے کسان دوست پالیسیوں کیلئے جانا جاتا ہے۔ ریاست کی بیشتر شوگر ملیں کسانوں کی شراکت داری سے چلتی ہیں، جس کے باعث منافع کا ایک بڑا حصہ براہِ راست کسانوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات کے گنا کسان دیگر کئی ریاستوں کے مقابلے زیادہ مستحکم سمجھے جاتے ہیں۔

حکومت کے مطابق اس وقت ریاست کی شوگر کوآپریٹو سوسائٹیاں دو لاکھ سے زیادہ گنا کسانوں کو براہِ راست ادائیگیاں کر رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کے اس فیصلے کو کسانوں کیلئے بڑی معاشی راحت تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے کسانوں کا اعتماد کوآپریٹو نظام پر مزید مضبوط ہوگا اور مستقبل میں شوگر صنعت کو بھی استحکام ملے گا۔

سیاسی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب ملک بھر میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور کوآپریٹو سیکٹر کو مضبوط بنانے پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ حکومت مسلسل ایتھنول پیداوار، گرین انرجی اور دیہی معیشت کو فروغ دینے کیلئے نئی پالیسیاں نافذ کر رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر شوگر صنعت کو اسی طرح حکومتی حمایت حاصل ہوتی رہی تو آنے والے برسوں میں گجرات ملک کے سب سے مضبوط شوگر کوآپریٹو ماڈل کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت، روزگار اور زرعی صنعتوں کو بھی نئی رفتار ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *