:
Breaking News

بھارت کی فضائی سلامتی مزید مضبوط، سی ڈی ایس جنرل انیل چوہان نے مشترکہ ایئر ڈیفنس نظریہ جاری کر دیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے مشترکہ فضائی دفاعی نظریہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد بھارتی افواج کے تینوں شعبوں کے درمیان بہتر رابطہ اور جدید جنگی حالات میں فضائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

نئی دہلی/عالم کی خبر: بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے مشترکہ فضائی دفاع یعنی جوائنٹ ایئر ڈیفنس سے متعلق ایک اہم عسکری نظریہ جاری کیا ہے۔ دفاعی ماہرین اسے بھارتی افواج کی جدید کاری اور تینوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ یہ نیا نظریہ مستقبل کی جنگی صورتحال اور بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی چیلنجز کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ہیڈکوارٹر کی جانب سے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” کے ذریعے اس نئے عسکری دستاویز کے اجراء کی اطلاع دی گئی۔ ماہرینِ دفاع کے مطابق یہ نظریہ بھارت کے فضائی دفاعی نظام کو زیادہ منظم، تیز رفتار اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کا بنیادی مقصد بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنا ہے تاکہ کسی بھی فضائی خطرے کا متحدہ انداز میں جواب دیا جا سکے۔

موجودہ دور میں جنگ کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈرون، میزائل، سائبر حملے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی فضائی ٹیکنالوجی نئی چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی ملک کے لیے مضبوط اور کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام بے حد ضروری ہو گیا ہے۔ بھارت بھی گزشتہ چند برسوں سے اپنی دفاعی تیاریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئے مشترکہ فضائی دفاعی نظریے کو قومی سلامتی کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک تینوں افواج اپنے اپنے انداز میں دفاعی کارروائیاں انجام دیتی رہی ہیں، لیکن مستقبل کی جنگوں میں مشترکہ آپریشنز کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ نیا نظریہ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے افواج کے درمیان معلومات کے تبادلے، فوری فیصلے اور مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

نئے ایئر ڈیفنس نظریے کا مرکزی ہدف بھارت کے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کو مزید طاقتور بنانا ہے۔ اس میں جدید ریڈار سسٹمز، میزائل دفاعی نظام، نگرانی کے آلات اور مشترکہ کمانڈ سسٹم کو زیادہ مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نظریہ دشمن کے ڈرون حملوں، میزائل حملوں اور دیگر فضائی خطرات سے نمٹنے میں بھارتی افواج کو مزید مضبوط بنائے گا۔

جنرل انیل چوہان گزشتہ کچھ عرصے سے بھارتی افواج کے درمیان مشترکہ نظام اور انضمام کو فروغ دینے پر مسلسل زور دے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں بھارتی دفاعی ڈھانچے میں کئی بڑے اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں صرف ہتھیاروں کی طاقت ہی نہیں بلکہ افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی بھی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرے گی۔

اس سے قبل اگست 2025 میں بھی جنرل انیل چوہان نے دو اہم عسکری دستاویزات جاری کیے تھے، جن میں اسپیشل فورسز کے مشترکہ آپریشنز اور ایئربورن و ہیلی بورن کارروائیوں سے متعلق نظریات شامل تھے۔ یہ دستاویزات مدھیہ پردیش کے مہو میں واقع آرمی وار کالج میں منعقدہ “رن سنواد” سیمینار کے دوران پیش کیے گئے تھے۔

“رن سنواد” بھارتی بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کے اعلیٰ افسران اور دفاعی ماہرین کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھا، جہاں جدید جنگی حکمتِ عملی، نئی دفاعی ٹیکنالوجی اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اسی پروگرام میں افواج کی مشترکہ جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ نیا فضائی دفاعی نظریہ اسی وسیع حکمتِ عملی کا اگلا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک عسکری دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی جنگوں کے لیے بھارتی فوج کی نئی اسٹریٹجک سوچ کی علامت ہے۔ اس سے نہ صرف افواج کی عملی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل دینے کی طاقت بھی مزید مضبوط ہوگی۔

بھارت حکومت پہلے ہی دفاعی میدان میں خود انحصاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کئی اقدامات کر چکی ہے۔ ایسے میں یہ نیا Joint Air Defence Doctrine بھارتی افواج کو مزید جدید، منظم اور ہر قسم کی جنگی صورتحال کے لیے تیار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *