:
Breaking News

شترگھن سنہا کا بڑا بیان، وزیر اعظم مودی کو مبارکباد اور ممتا بنرجی سے وفاداری کا اعادہ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان شترگھن سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 12 سالہ دورِ اقتدار پر مبارکباد پیش کی اور واضح کیا کہ وہ ممتا بنرجی کا ساتھ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے پارٹی میں کسی باغی گروپ کا حصہ ہونے کی خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔

ہندوستانی سیاست میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب ایک مختصر بیان بھی سیاسی حلقوں میں وسیع بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمان شترگھن سنہا کا حالیہ بیان بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔ ایک طرف انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلسل بارہ سالہ دورِ اقتدار پر مبارکباد پیش کی، تو دوسری جانب اپنی جماعت ترنمول کانگریس اور اس کی سربراہ ممتا بنرجی کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔

شترگھن سنہا نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں عوام کا طویل عرصے تک اعتماد حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی صحت، خوشحالی اور طویل عمر کے لیے دعا کرتے ہوئے انہیں اقتدار میں بارہ سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

ان کے اس پیغام کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے شروع ہو گئے۔ بعض مبصرین نے اسے سیاسی شائستگی اور جمہوری روایات کا حصہ قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں میں اس حوالے سے سوالات بھی اٹھنے لگے کہ آیا ترنمول کانگریس کے اندر جاری اختلافات کی خبروں سے اس بیان کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

گزشتہ چند دنوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں یہ چہ مگوئیاں گردش کر رہی تھیں کہ ترنمول کانگریس کے بعض اراکین پارلیمان پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اور ایک الگ گروپ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں شترگھن سنہا کا نام بھی اس مبینہ گروپ سے جوڑا گیا، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا۔

تاہم شترگھن سنہا نے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کسی باغی گروپ یا اختلافی دھڑے کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں اور وہ پوری وفاداری کے ساتھ ترنمول کانگریس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے اس موقع پر ممتا بنرجی کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی زندگی میں مشکل وقت میں جو لوگ ساتھ کھڑے رہتے ہیں، انہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی نے ایسے وقت میں ان پر اعتماد کیا جب وہ سیاسی طور پر نئے راستے کی تلاش میں تھے، اس لیے وہ بھی ہر حال میں ان کے ساتھ رہیں گے۔

شترگھن سنہا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ ممتا بنرجی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے مطابق سیاسی وفاداری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس قیادت نے ان پر اعتماد کیا، وہ اس اعتماد کو ہر صورت برقرار رکھیں گے۔

اگر شترگھن سنہا کے سیاسی سفر پر نظر ڈالی جائے تو یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک دلچسپ داستان ہے۔ فلمی دنیا میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سیاست کا رخ کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ وہ مرکزی حکومت میں مختلف ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں اور قومی سیاست میں ان کی ایک الگ شناخت رہی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ بی جے پی اور شترگھن سنہا کے درمیان بعض سیاسی معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے۔ یہ اختلافات بڑھتے گئے اور بالآخر انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کا دامن تھاما اور 2019 کے عام انتخابات میں انتخابی میدان میں اترے، تاہم کامیابی ان کے حصے میں نہ آ سکی۔

بعد ازاں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انہیں اپنی جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ شترگھن سنہا نے اس پیشکش کو قبول کیا اور ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ پارٹی نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے آسنسول لوک سبھا حلقے سے امیدوار بنایا، جہاں سے وہ کامیاب ہو کر پارلیمان پہنچے۔

اس کامیابی نے نہ صرف ان کے سیاسی کیریئر کو نئی زندگی دی بلکہ ترنمول کانگریس میں بھی ان کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ بعد کے انتخابات میں بھی انہوں نے اپنی نشست برقرار رکھتے ہوئے ثابت کیا کہ عوامی سطح پر ان کی مقبولیت اب بھی قائم ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ شترگھن سنہا کا حالیہ بیان دراصل دو واضح پیغامات پر مشتمل ہے۔ پہلا پیغام یہ کہ جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے عہدوں اور خدمات کا احترام کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا پیغام یہ کہ وہ ترنمول کانگریس کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہیں اور پارٹی کے اندر کسی قسم کی بغاوت یا گروہ بندی کا حصہ نہیں ہیں۔

موجودہ سیاسی ماحول میں جب پارٹیوں کے اندر اختلافات کی خبریں عام ہیں، ایسے وقت میں ایک سینئر رہنما کا کھل کر اپنی قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا سیاسی طور پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شترگھن سنہا کا بیان نہ صرف مغربی بنگال بلکہ قومی سیاست میں بھی موضوعِ گفتگو بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

• پارلیمانی سیاست کی اہم خبریں – alamkikhabar.com

• مغربی بنگال کی تازہ سیاسی اپ ڈیٹس – alamkikhabar.com

• قومی سیاست اور انتخابی سرگرمیوں کی رپورٹیں – alamkikhabar.com

سیاسی زندگی میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، لیکن سیاسی شائستگی اور وفاداری کی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ شترگھن سنہا کا حالیہ بیان اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارکباد دے کر سیاسی برداشت کا مظاہرہ کیا، تو دوسری جانب اپنی جماعت اور قیادت کے ساتھ وابستگی کا واضح اعلان بھی کیا۔

آج کے سیاسی ماحول میں جہاں اکثر بیانات تنازعات کو جنم دیتے ہیں، وہاں ایسے بیانات مثبت سیاسی ثقافت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ شترگھن سنہا کا مؤقف اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *