:
Breaking News

ٹی ایم سی میں بغاوت: 20 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ علیحدہ گروپ بنانے کی تیاری میں

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ٹی ایم سی میں سیاسی بحران کی صورتحال ہے۔ 20 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ مبینہ طور پر علیحدہ گروپ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

نئی دہلی: مغربی بنگال کی حکمراں جماعت Mamata Banerjee کی قیادت میں چلنے والی ترنمول کانگریس (TMC) میں اس وقت بڑے سیاسی بحران کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے 20 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ پارٹی سے الگ ہونے کی تیاری میں ہیں اور ایک علیحدہ گروپ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اتوار کے روز دہلی میں مرکزی وزیر Bhupender Yadav کی رہائش گاہ پر ٹی ایم سی کے کچھ باغی اراکینِ پارلیمنٹ کی اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں تقریباً 14 سے 15 اراکین کی موجودگی کی خبر ہے، جہاں پارٹی سے علیحدگی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بات چیت ہوئی۔

ملاقات کے بعد رکنِ پارلیمنٹ کاکولی گھوش دَستیدار نے کہا کہ وہ پیر (15 جون 2026) کو لوک سبھا اسپیکر Om Birla سے ملاقات کریں گے اور ایک علیحدہ گروپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کی درخواست کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ان کے ساتھ 22 اراکینِ پارلیمنٹ شامل ہیں، تاہم دو نئے اراکین کے نام ابھی ظاہر نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق جیسے ہی یہ اراکین باضابطہ طور پر شامل ہوں گے، ان کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال درست ثابت ہوتی ہے تو یہ ٹی ایم سی کے لیے ایک بڑا تنظیمی بحران ہو سکتا ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں لیکن اس سطح کی بغاوت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ باغی اراکین پارٹی کی اندرونی پالیسیوں اور قیادت سے ناراض ہیں جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

ابھی تک ٹی ایم سی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بڑا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑے تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اگر یہ اراکین لوک سبھا اسپیکر سے الگ گروپ کی منظوری حاصل کر لیتے ہیں تو یہ قومی سیاست میں بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

سیاسی تجزیہ:

Mamata Banerjee کی پارٹی میں یہ مبینہ اختلاف اگر بڑھتا ہے تو یہ ٹی ایم سی کے لیے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔ 20 سے زائد اراکین کا ایک ساتھ الگ گروپ بنانے کی کوشش پارٹی کے اندرونی نظام پر سوال اٹھاتی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں یا تو قیادت مذاکرات کرتی ہے یا پھر پارٹی میں بڑی تنظیمی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *