:
Breaking News

مہاراشٹر کی سیاست میں نیا موڑ، سچن اہیر کے فیصلے سے ادھو ٹھاکرے گروپ کو دھچکا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

مہاراشٹر کونسل کے نائب سربراہ کے عہدے کے لیے مہاوکاس اگھاڑی نے جے ایم ابھینکر کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ سچن اہیر نے ایکناتھ شندے گروپ کی جانب سے نامزدگی داخل کرکے سیاسی ہلچل پیدا کردی ہے۔

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ ریاستی کونسل کے نائب سربراہ کے عہدے کے لیے ہونے والے مقابلے سے پہلے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ مہاوکاس اگھاڑی نے اس عہدے کے لیے جے ایم ابھینکر کو اپنا امیدوار مقرر کیا ہے، جبکہ ادھو ٹھاکرے کے قریبی ساتھی رہے سچن اہیر نے ایکناتھ شندے گروپ کی جانب سے نامزدگی داخل کرکے سیاسی حلقوں کو حیران کردیا ہے۔

سچن اہیر کے اس فیصلے کو ادھو ٹھاکرے گروپ کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔ سچن اہیر ماضی میں ادھو ٹھاکرے خاندان کے انتہائی قریب رہے ہیں۔ انہوں نے آدتیہ ٹھاکرے کے لیے اپنی ورلی نشست چھوڑنے کا فیصلہ بھی کیا تھا، جس کے بعد وہ ٹھاکرے خاندان کے وفادار رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔

اب اچانک شندے گروپ کی جانب سے نائب سربراہ کے عہدے کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ سیاسی ماہرین اس قدم کو ریاست کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

مہاراشٹر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی بڑی سیاسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ شیوسینا میں تقسیم کے بعد ادھو ٹھاکرے گروپ اور ایکناتھ شندے گروپ کے درمیان سیاسی مقابلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں کسی اہم رہنما کا رخ تبدیل کرنا سیاسی طور پر بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

ریاستی کونسل کے نائب سربراہ کا عہدہ دونوں اتحادوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ مہایوتی اتحاد اس انتخاب کو اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ مہاوکاس اگھاڑی بھی اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جے ایم ابھینکر کو مہاوکاس اگھاڑی نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ وہ ریاستی کونسل کے رکن اور تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیت ہیں۔ دوسری جانب سچن اہیر کے میدان میں آنے سے مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا ہے۔

سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا سچن اہیر کا یہ قدم صرف نائب سربراہ کے عہدے تک محدود ہے یا اس کے پیچھے مستقبل کی کوئی بڑی سیاسی حکمت عملی موجود ہے۔ مہاراشٹر میں پہلے ہی شیوسینا اور راشٹروادی کانگریس پارٹی میں بڑی سیاسی تقسیم ہوچکی ہے، اس لیے ہر سیاسی تبدیلی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ایکناتھ شندے نے آخری وقت میں سچن اہیر کو میدان میں اتار کر سیاسی حلقوں کو حیران کردیا۔ اس سے پہلے قیاس کیا جا رہا تھا کہ شندے گروپ کسی دوسرے نام پر غور کرسکتا ہے، لیکن اچانک سامنے آنے والے اس فیصلے نے انتخابی ماحول بدل دیا۔

ریاستی کونسل کے نائب سربراہ کے انتخاب کے لیے نامزدگی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور انتخاب یکم جولائی کو ہوگا۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کون سا گروپ اپنی سیاسی طاقت ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

مہاراشٹر کی سیاست میں ہر سیاسی فیصلہ اپنے ساتھ کئی سوالات لے کر آتا ہے۔ سچن اہیر کا فیصلہ بھی اسی سیاسی تبدیلی کا حصہ ہے۔ ایک طرف ادھو ٹھاکرے گروپ اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے میں مصروف ہے، دوسری طرف ایکناتھ شندے گروپ اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نائب سربراہ کا انتخاب آنے والے سیاسی حالات کا اشارہ دے سکتا ہے۔ اس کے نتائج سے ریاست کی سیاست میں نئی سمت سامنے آسکتی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *