:
Breaking News

سونم وانگچک سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی اپیل، بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر وکاس سنگھ نے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ان کی قربانی نہیں بلکہ ان کی قیادت اور خدمات کی ضرورت ہے۔

نئی دہلی، 16 جولائی۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) کے صدر اور سینئر وکیل ڈاکٹر وکاس سنگھ نے سماجی کارکن اور ماحولیاتی ماہر سونم وانگچک سے ان کی جاری بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایک جذباتی خط کے ذریعے کہا کہ ملک کو سونم وانگچک کی شہادت نہیں بلکہ ان کی قیادت، تجربے اور مسلسل خدمات کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر وکاس سنگھ کے مطابق کسی بھی جمہوری جدوجہد کا مقصد اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا نہیں بلکہ نظام میں مثبت تبدیلی لانا ہونا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بھارت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو زندہ رہ کر عوام کی رہنمائی کریں اور اصلاحات کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے سونم وانگچک سے اپیل کی کہ وہ اپنی توانائی مستقبل کی سماجی اور تعلیمی اصلاحات کے لیے محفوظ رکھیں اور بھوک ہڑتال ختم کریں۔

ڈاکٹر وکاس سنگھ نے بعد ازاں بھوک ہڑتال کے مقام پر پہنچ کر سونم وانگچک سے ملاقات بھی کی اور ذاتی طور پر ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے احتجاج ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو تعلیم، ماحولیات اور سماجی اصلاحات کے میدان میں سونم وانگچک کی مسلسل خدمات کی اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ سونم وانگچک طویل عرصے سے تعلیم، ماحولیات اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر سرگرم رہے ہیں۔ ان کی مہمات کو ملک اور بیرونِ ملک بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی موجودہ بھوک ہڑتال نے بھی قومی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور مختلف سماجی تنظیموں نے ان کے مطالبات کی حمایت کے ساتھ ساتھ ان کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

ڈاکٹر وکاس سنگھ کی یہ اپیل اس بات کا اشارہ ہے کہ قانونی برادری بھی اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کی طویل جدوجہد کے لیے مضبوط قیادت کا زندہ اور متحرک رہنا بے حد ضروری ہے۔

اداریہ:

قیادت زندہ رہے گی تو جدوجہد بھی جاری رہے گی

جمہوری نظام میں احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن کسی بھی تحریک کی اصل طاقت اس کی قیادت ہوتی ہے۔ اگر قیادت محفوظ اور متحرک رہے تو اصلاحات کی امید بھی برقرار رہتی ہے۔ اسی لیے اختلافِ رائے کے باوجود ایسے تمام اقدامات ضروری ہیں جو مکالمے اور آئینی طریقوں سے مسائل کا حل نکال سکیں۔

یہ بھی پڑھیں (Alam Ki Khabar):

• ISRO میں بڑھتے استعفوں پر حکومت سخت، اب ہر فیصلہ محکمۂ خلاء کرے گا

• پٹنہ میں جگن ناتھ رتھ یاترا کی شاندار تیاریاں مکمل

• بہار میں مانسون کا قہر، کئی اضلاع میں شدید بارش کا الرٹ

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *