:
Breaking News

Delhi Traffic News: گرو ہرکشن مارگ پر فلائی اوور اور کراول نگر میں ایلیویٹڈ کوریڈور کی تیاری

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

دہلی میں منگول پوری، پیراگڑھی، کراول نگر اور اطراف کے علاقوں کو ٹریفک جام سے راحت دینے کے لیے فلائی اوور اور ایلیویٹڈ کوریڈور کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کرائی جائے گی۔

نئی دہلی، 20 جولائی۔قومی دارالحکومت دہلی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو کم کرنے اور شہریوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے عوامی تعمیرات محکمہ (PWD) نے دو اہم انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ منصوبے کے تحت گرو ہرکشن مارگ (روڈ نمبر 43) پر فلائی اوور اور کراول نگر ڈرین کے ساتھ ایلیویٹڈ کوریڈور تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ دونوں منصوبوں پر حتمی فیصلہ فزیبلٹی اسٹڈی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

محکمہ کے مطابق گرو ہرکشن مارگ پر تقریباً پانچ کلومیٹر طویل حصے کا تکنیکی اور ٹریفک سروے کرانے کے لیے ایک نجی ایجنسی مقرر کی جائے گی۔ اس مطالعے میں ٹریفک کے دباؤ، تعمیراتی امکانات، لاگت اور شہری سہولتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ منصوبے کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پنجابی باغ چوک سے منڈکا انڈسٹریل ایریا تک نیشنل ہائی وے-10 پر روزانہ شدید ٹریفک جام رہتا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر گرو ہرکشن مارگ پر فلائی اوور تعمیر ہو جاتا ہے تو منگول پوری انڈسٹریل ایریا، شکور بستی، رانی باغ، کیشو پورم، سینک بہار اور آس پاس کے علاقوں سے آؤٹر رنگ روڈ تک رسائی زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گی۔

دوسری جانب شمال مشرقی دہلی کے کراول نگر، شیو بہار، جوہری پور اور دیال پور جیسے گنجان آباد علاقوں کے لیے بھی ایک بڑا منصوبہ زیر غور ہے۔ کراول نگر ڈرین کے ساتھ انکر انکلیو سے گوکل پوری میٹرو اسٹیشن تک ایلیویٹڈ کوریڈور تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ موجودہ سڑکوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

محکمہ کے مطابق اس علاقے میں ڈرین کے دونوں جانب موجود سڑکیں صرف 25 سے 30 فٹ چوڑی ہیں، جبکہ روزانہ بڑی تعداد میں گاڑیاں انہی راستوں سے گزرتی ہیں۔ رش کے اوقات میں یہاں طویل ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ ایلیویٹڈ کوریڈور کی تعمیر سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ گوکل پوری میٹرو اسٹیشن تک پہنچنا بھی شہریوں کے لیے آسان ہو جائے گا۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو مغربی اور شمال مشرقی دہلی کے لاکھوں شہریوں کو روزانہ کے ٹریفک جام سے بڑی حد تک نجات مل سکتی ہے، جس سے وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: دہلی میں مانسون کے دوران ٹریفک کے لیے نئی ایڈوائزری جاری۔ بہار اسمبلی کا مانسون اجلاس ہنگامے کے ساتھ شروع۔ لالو پرساد یادو بہتر علاج کے لیے دہلی روانہ۔

اداریہ: ترقی صرف نئی سڑکیں بنانے سے نہیں آتی بلکہ ایسی منصوبہ بندی سے آتی ہے جو مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھے۔ اگر یہ منصوبے بروقت مکمل ہوتے ہیں تو دہلی کی ٹریفک صورت حال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *