:
Breaking News

Coal Block Case: سپریم کورٹ نے منموہن سنگھ کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کر دیا، کانگریس نے وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ کیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں فوجداری کارروائی ختم کرتے ہوئے سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ قبول کر لی۔ فیصلے کے بعد کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے معافی کا مطالبہ کیا۔

نئی دہلی، 30 جولائی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ سے متعلق طویل عرصے سے زیرِ بحث مقدمے میں سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف فوجداری کارروائی کو باضابطہ طور پر ختم کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے خصوصی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے سمن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کی کلوزر رپورٹ قبول کر لی، جس کے بعد یہ مقدمہ بند کر دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ خصوصی عدالت کے پاس سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ مسترد کرنے اور سابق وزیراعظم کے خلاف ازخود کارروائی شروع کرنے کی کوئی معقول قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد اور تفتیشی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کلوزر رپورٹ قبول کرنا ہی قانون کے مطابق درست اقدام تھا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 27 دسمبر 2024 کو انتقال ہو چکا ہے، تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ ان کے انتقال کے باعث اپیل کو غیر مؤثر قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن قانونی اصولوں کی وضاحت کے لیے عدالت نے پورے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری سمجھا۔

یہ مقدمہ اڈیشہ کے تالبیرا-2 کوئلہ بلاک کی 2005 میں ہوئی الاٹمنٹ سے متعلق تھا۔ اس وقت کوئلہ کی وزارت کا اضافی قلمدان بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے پاس تھا۔ سال 2015 میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے صنعت کار کمار منگلم برلا، سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پارکھ اور دیگر ملزمان کے ساتھ سابق وزیراعظم کو بھی طلب کیا تھا، تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے اس کارروائی پر روک لگا دی تھی۔

منموہن سنگھ نے ابتدا ہی سے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری قانونی منظوری حاصل نہیں کی گئی اور نہ ہی انہوں نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں کسی غیر قانونی عمل میں حصہ لیا۔

سی بی آئی نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد عدالت میں کلوزر رپورٹ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر سابق وزیراعظم یا دیگر ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا جواز نہیں بنتا۔ تاہم خصوصی عدالت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مزید کارروائی کا حکم دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے غلط قرار دیا ہے۔

اس مقدمے کی بنیاد سال 2012 میں اُس وقت پڑی تھی جب کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی رپورٹ میں 1993 سے 2010 کے درمیان مختلف نجی اور سرکاری کمپنیوں کو کوئلہ بلاکوں کی الاٹمنٹ پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شفاف نیلامی نہ ہونے کے باعث حکومت کو تقریباً 1.86 لاکھ کروڑ روپے کا ممکنہ نقصان پہنچا۔ بعد ازاں 2014 میں سپریم کورٹ نے اسی عرصے کے بیشتر کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت بھی سیاسی بحث کا موضوع رہا جب ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنے دورِ حکومت کے آخری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے خود کوئلہ بلاکوں کی نیلامی کے حق میں زور دیا تھا، لیکن ان کی اس رائے کو نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو ان کا کردار بے داغ ثابت ہوگا۔

سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جئے رام رمیش نے کہا کہ عدالت کے فیصلے نے سابق وزیراعظم پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو معافی مانگنی چاہیے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے بھی سوشل میڈیا پر فیصلے کو تاریخی قرار دیا۔

دوسری جانب اس فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے خبر لکھے جانے تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف اس مقدمے کا اختتام ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کلوزر رپورٹ مسترد کرنے سے قبل عدالت کو مضبوط قانونی بنیاد اور قابلِ اعتماد شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں نے کیسے بدلی قانونی سمت | Alam Ki Khabar

پارلیمنٹ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ | Alam Ki Khabar

تبصرہ

سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری قانونی تنازع کا اختتام کر دیا ہے، تاہم کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کا معاملہ ہندوستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ فیصلے کے بعد سیاسی الزام تراشی کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے، جبکہ اس پر مزید سیاسی ردعمل آنے کا امکان برقرار ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *