:
Breaking News

Delhi News: محسن نقوی کا بڑا بیان، "اگر نوجوان متحد ہو گئے تو سب کچھ بدل دیں گے"، فوج نے کیا دیا جواب؟

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حکومتی نظام، نوجوانوں اور "کاکروچ" سے متعلق بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔ فوج، سابق صدر عارف علوی اور مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی اس پر ردِعمل دیا۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان نے ملک کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومتی نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوان متحد ہو جائیں تو وہ پورا نظام بدل سکتے ہیں۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے نوجوانوں کے لیے "کاکروچ" کی مثال بھی دی، جس کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس بیان پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو معمولی وظیفے یا لیپ ٹاپ دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ انصاف، میرٹ اور روزگار کے مساوی مواقع چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر نوجوان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے تو وہ پورے نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر "کاکروچ پارٹی پاکستان" کے نام سے ایک مہم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اس مہم کے حامی خود کو نوجوانوں کی آواز قرار دیتے ہیں اور بدعنوانی، ناقص طرزِ حکمرانی اور معاشی بحران کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

محسن نقوی نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ہر سال بجٹ خسارے کے ساتھ بنتا ہے اور حکومت کو مسلسل نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف محنت کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پورے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں ایک میز پر بیٹھیں اور انتظامی و آئینی اصلاحات پر متفق ہوں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔

محسن نقوی کے بیان پر پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور فوج اس پر تبصرہ نہیں کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی صرف ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان میں ہی ممکن ہے جبکہ سیاسی معاملات کا فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہوگا۔

پاکستان کے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ نظام خود ناکام نہیں ہوا بلکہ جن لوگوں نے اس پر قبضہ کیا، انہوں نے اسے کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی شفافیت اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہے، اور جب اس سے انحراف ہوتا ہے تو ملک سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے نئے انتظامی یونٹس کی تجویز پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو اس کے لیے آئینی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی نئے صوبے یا انتظامی تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق محسن نقوی کے حالیہ بیان نے پاکستان میں حکمرانی، نوجوانوں کے کردار اور سیاسی اصلاحات سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: • Pakistan News: پاکستان کی معیشت پر بڑھتے قرضوں کا دباؤ

• World News: جنوبی ایشیا میں سیاسی تبدیلیوں پر عالمی نظریں

اداریہ:

پاکستان میں نوجوانوں کی بے چینی، معاشی مشکلات اور حکمرانی سے متعلق سوالات نئے نہیں، لیکن جب یہی خدشات حکومتی سطح سے سامنے آئیں تو ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مسائل کا دیرپا حل صرف سیاسی اتفاقِ رائے، شفاف طرزِ حکمرانی اور آئینی اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *