:
Breaking News

India News: کرناٹک کابینہ میں توسیع پر فیصلہ قریب، 20 نئے وزراء کے ناموں پر غور

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

کرناٹک میں وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی کابینہ میں توسیع کا راستہ ہموار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی میں کانگریس قیادت کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد تقریباً 20 نئے وزراء کے ناموں پر غور جاری ہے۔

نئی دہلی ڈیسک، 2 اگست۔ عالم کی خبر: کرناٹک میں وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی حلف برداری کے تقریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود کابینہ کی توسیع نہیں ہو سکی ہے۔ اب اس سلسلے میں دہلی میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اہم مشاورت ہوئی ہے، جس کے بعد جلد نئے وزراء کو شامل کیے جانے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار، نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور اور ریاست کے دیگر کانگریسی رہنماؤں نے پارٹی صدر ملیکارجن کھڑگے سے ملاقات کی، جس میں کابینہ کی توسیع، علاقائی اور سماجی نمائندگی سمیت کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ تقریباً 20 نئے وزراء کے ناموں پر غور جاری ہے اور آئندہ ہفتے حلف برداری کی تقریب منعقد ہو سکتی ہے۔ فی الحال وزیراعلیٰ سمیت صرف 14 وزراء کابینہ میں شامل ہیں، جبکہ آئینی طور پر کرناٹک میں وزیراعلیٰ سمیت 34 وزراء رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس قیادت مختلف طبقات، برادریوں اور سینئر و جونیئر رہنماؤں کے درمیان متوازن نمائندگی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث کابینہ کی توسیع میں تاخیر ہوئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سابق وزیراعلیٰ سدارامیا اور وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے حامی گروپوں کی جانب سے بھی مختلف نام تجویز کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے حتمی فہرست تیار کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔

کرناٹک کی سیاست میں لنگایت، ووککالیگا اور کُرُبا برادریوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کابینہ کی تشکیل میں سماجی توازن برقرار رکھنا کانگریس کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

ادارتی عنوان: کابینہ کی تشکیل میں سیاسی توازن سب سے بڑا امتحان

کسی بھی ریاست میں کابینہ کی تشکیل صرف وزارتیں تقسیم کرنے کا عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ سیاسی حکمتِ عملی، سماجی نمائندگی اور عوامی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کے سامنے بھی یہی چیلنج ہے۔ مختلف برادریوں، علاقوں اور پارٹی کے اندرونی دھڑوں کو مناسب نمائندگی دینا قیادت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اگر یہ توازن کامیابی سے قائم کر لیا جاتا ہے تو حکومت مزید مضبوط ہو سکتی ہے، لیکن اگر کسی طبقے یا گروہ کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سیاسی اثرات مستقبل میں ضرور سامنے آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

بہار میں سیاسی سرگرمیاں تیز، کئی اہم فیصلوں کے آثار

پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئی محاذ آرائی

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *