:
Breaking News

Lucknow News: گومتی نگر میں بینک ملازم نے بیوی اور بہن کو گولی ماری، پھر خودکشی کرلی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | لکھنؤ کے گومتی نگر میں بینک ملازم نے بیوی کو گولی مار کر قتل کیا، پھر بہن کی جان لینے کے بعد خودکشی کرلی۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

ڈیسک، 21 اگست۔ لکھنؤ کے گومتی نگر میں ایک سنسنی خیز قتل اور خودکشی کے واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ایک بینک ملازم نے مبینہ طور پر بینک کے باہر اپنی اہلیہ کو گولی مار دی، جس سے اس کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر پہنچا، جہاں اپنی بیمار بہن کو بھی گولی مار دی اور آخرکار خود کو بھی گولی مار کر زندگی ختم کرلی۔

پولیس نے تینوں لاشوں کو قبضے میں لے کر معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ ابتدائی جانچ میں میاں بیوی کے درمیان کافی عرصے سے جاری خاندانی تنازع کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس مقتولہ کے شوہر کے موبائل فون، WhatsApp اسٹیٹس، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر پورے واقعے کی کڑیاں جوڑنے میں مصروف ہے۔

بینک کے باہر بیوی پر فائرنگ

اطلاعات کے مطابق مقتولہ دیویا مشرا گومتی نگر واقع ایک بینک میں ملازمت کرتی تھیں۔ وہ اپنی ڈیوٹی کے لیے بینک پہنچی تھیں۔ اسی دوران ان کے شوہر مانس باجپئی وہاں پہنچے۔ دونوں کے درمیان کسی بات کو لے کر تنازع ہوا اور اس کے بعد مانس نے مبینہ طور پر دیویا پر فائرنگ کردی۔

گولی لگنے کے بعد دیویا زمین پر گر گئیں۔ آس پاس موجود لوگوں نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دی۔ پولیس کے پہنچنے تک دیویا کی حالت انتہائی نازک تھی، بعد میں ان کی موت کی تصدیق ہوئی۔

دن دہاڑے بینک کے باہر فائرنگ کی اس واردات سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے اور آس پاس موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی جانچ کے دائرے میں لے لی۔

قتل کے بعد WhatsApp اسٹیٹس نے بڑھایا معاملہ

بیوی کو گولی مارنے کے بعد مانس اپنے گھر پہنچا۔ اسی دوران اس کے WhatsApp اسٹیٹس نے پولیس اور پڑوسیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔

رپورٹس کے مطابق اس نے اسٹیٹس میں اپنی بیوی کی موت کا ذکر کیا اور اس پر بے وفائی کے الزامات لگائے۔ اس نے اپنی بہن اور خود کو بھی ختم کرنے کی بات لکھی تھی۔ اس کے علاوہ مقتولہ کی بہن اور ایک شخص کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

تاہم WhatsApp اسٹیٹس میں کیے گئے دعووں کو پولیس نے ابھی حقیقت تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان الزامات کی سچائی اور واقعے سے ان کے تعلق کی بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

پڑوسیوں کو ہوئی کسی ان ہونی کی تشویش

WhatsApp اسٹیٹس دیکھنے کے بعد پڑوسیوں کو مانس کے گھر میں کسی بڑی ان ہونی کا خدشہ ہوا۔ انہوں نے اسے فون کیا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد کچھ پڑوسی گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

اندر سے کوئی جواب نہ ملنے پر پڑوسیوں نے دروازہ توڑ دیا۔ گھر کے اندر کا منظر دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ مانس کی بیمار بہن سیما بھی مردہ حالت میں پڑی تھیں، جبکہ مانس نے بھی خود کو گولی مار لی تھی۔

اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی۔ گھر کو محفوظ کرکے فرانزک ٹیم کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔

گھر میں چل رہا تھا ٹی وی، بج رہی تھی ہنومان چالیسا

پڑوسیوں کے مطابق جب گھر کا دروازہ کھولا گیا تو اندر ٹی وی چل رہا تھا اور ہنومان چالیسا بج رہی تھی۔ کمرے میں مانس اور اس کی بہن سیما کی لاشیں موجود تھیں۔

پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ گھر میں پہنچنے کے بعد مانس نے کیا کیا اور واقعے کا پورا سلسلہ کس ترتیب سے پیش آیا۔ موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی تفتیش کا اہم حصہ ہیں۔

تقریباً ایک سال سے الگ رہ رہے تھے میاں بیوی

پولیس کی ابتدائی جانچ کے مطابق مانس اور دیویا کے درمیان طویل عرصے سے گھریلو تنازع چل رہا تھا۔ دونوں تقریباً ایک سال سے الگ رہ رہے تھے اور ان کا معاملہ فیملی کورٹ تک بھی پہنچ چکا تھا۔

مانس بھارتی اسٹیٹ بینک یعنی SBI میں سینئر اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کرتا تھا۔ اس کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا اور اس کی بیمار بہن سیما اس کے ساتھ رہتی تھی۔

پڑوسیوں نے مانس کی ذہنی حالت کے بارے میں بھی کچھ باتیں بتائی ہیں، تاہم پولیس ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر جانچ کررہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

پولیس کے سامنے کئی اہم سوال

اس واقعے میں پولیس کے سامنے کئی سوال ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایسا کیا تنازع تھا جس نے اتنی خطرناک شکل اختیار کرلی۔

اس کے علاوہ پولیس WhatsApp اسٹیٹس میں کیے گئے دعووں کی بھی جانچ کررہی ہے۔ اسٹیٹس میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے بھی پوچھ گچھ ہوسکتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ان کا اس خاندانی تنازع سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

پولیس بینک کے باہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون کی سرگرمی، کال ریکارڈ، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور دیگر پہلوؤں کی جانچ کررہی ہے۔

تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی اصل وجہ

ایک ہی واقعے میں بیوی، بہن اور شوہر کی موت کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ پولیس تینوں اموات کو ایک ہی سلسلے کی کڑی مان کر تفتیش آگے بڑھا رہی ہے۔

پولیس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ واقعہ اچانک پیش آیا یا اس کے پیچھے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی تھی۔ ساتھ ہی میاں بیوی کے درمیان جاری تنازع کی اصل وجہ بھی معلوم کی جارہی ہے۔

فی الحال پولیس نے تمام پہلوؤں کو تفتیش میں شامل رکھا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر ثبوت سامنے آنے کے بعد ہی اس سنسنی خیز واقعے کی مکمل تصویر واضح ہوسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں

لکھنؤ اور اترپردیش سے جڑی تازہ خبروں کے لیے Alam Ki Khabar پڑھتے رہیں۔

خاندانی تنازع کا خطرناک انجام

گومتی نگر کا یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ طویل عرصے تک چلنے والا خاندانی تنازع اگر سنگین رخ اختیار کرلے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان اختلافات کا حل تشدد نہیں ہوسکتا۔

اس معاملے میں WhatsApp اسٹیٹس کے ذریعے سامنے آنے والے الزامات کی بھی مکمل جانچ ضروری ہے۔ کسی بھی شخص کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو ثبوت کے بغیر حقیقت نہیں مانا جاسکتا۔ پولیس کو ڈیجیٹل شواہد اور فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر ہی واقعے کی اصل وجہ تک پہنچنا ہوگا۔

یہ واقعہ اس بات پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب کسی خاندان میں طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہو تو وقت رہتے اس کے حل کی کوشش کتنی ضروری ہے۔ ایسے معاملات میں خاندان کے افراد، قانونی ماہرین اور متعلقہ اداروں کی بروقت مداخلت کسی بڑے سانحے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *