:
Breaking News

NEPAL FLOOD: سیلاب کے دوران تجوری سے 92 لاکھ 68 ہزار روپے نکالنے کے الزام میں 29 گرفتار، لاش سے زیور اتارنے کے معاملے میں 2 حراست میں

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | نیپال میں تباہ کن سیلاب کے درمیان تریشولی ندی کے کنارے ملی تجوری سے رقم نکالنے کے الزام میں 29 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خاتون کی لاش سے سونے کی بالیاں نکالنے کے الزام میں بھی دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کاٹھمنڈو، 29 اگست۔ نیپال میں شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے۔ قدرتی آفت کے اس ماحول میں لوٹ اور انسانیت کو شرمسار کرنے والے کچھ واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ دھادنگ ضلع میں تریشولی ندی کے کنارے سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر پہنچی ایک تجوری کو توڑ کر اس میں موجود نقد رقم نکالنے کے الزام میں پولیس نے 29 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے 92 لاکھ 68 ہزار 505 روپے نقد برآمد کیے گئے ہیں۔

اسی دوران ناراینی ندی میں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والی ایک خاتون کی لاش سے سونے کی بالیاں نکالنے کے الزام میں دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی۔

سیلاب میں بہہ کر آئی تھی تجوری

پولیس کے مطابق بھوٹے کوشی علاقے میں آنے والے سیلاب کے دوران ایک تجوری پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی تھی۔ بعد میں یہ تجوری دھادنگ ضلع کی گَلچھّی دیہی میونسپلٹی-4 کے بیل کھو کولا کے قریب تریشولی ندی کے کنارے ملی۔

تجوری ملنے کی اطلاع پولیس کو دی گئی، جس کے بعد تفتیش شروع ہوئی۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس کو معلوم ہوا کہ کچھ مقامی افراد نے تجوری توڑ کر اس کے اندر موجود نقد رقم نکال لی تھی۔

اس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 29 افراد کو گرفتار کیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے 92,68,505 روپے نقد برآمد ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

رقم کے اصل مالک کا بھی پتا لگایا جا رہا ہے

پولیس اب یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ تجوری اور اس میں موجود رقم اصل میں کس کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ رقم نکالنے کے معاملے میں گرفتار افراد کے علاوہ مزید کوئی شخص شامل تھا یا نہیں۔

گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد گَلچھّی-4 کے مستر علاقے کے رہنے والے بتائے گئے ہیں۔ کچھ افراد کا تعلق گَلچھّی-6 کے آدم گھاٹ اور سدھلیک-7 کے آدم تر سے بتایا گیا ہے۔ کچھ دیگر افراد چتوان اور پرسا کے رہنے والے ہیں، جو اس وقت دھادنگ میں مقیم تھے۔

خاتون کی لاش سے زیور نکالنے کا الزام

نیپال سے سامنے آنے والا دوسرا واقعہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔ ناراینی ندی میں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والی ایک خاتون کی لاش سے سونے کی بالیاں نکالنے کے الزام میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کی اور دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس واقعے میں صرف یہی دو افراد شامل تھے یا مزید لوگوں کا بھی کوئی کردار تھا۔

سیلاب نے نیپال میں بڑھائی مشکلات

نیپال کے کئی علاقے اس وقت سیلاب اور قدرتی آفت کی زد میں ہیں۔ تیز پانی کے بہاؤ نے بڑی تعداد میں لوگوں کے سامنے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں۔ امدادی اور بچاؤ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں لوگوں تک ضروری امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔

ایسے حالات میں سیلاب کے پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والی املاک پر قبضہ کرنے اور مردہ افراد کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب سلوک کے واقعات سامنے آنا تشویش کا باعث ہے۔

626 اموات کی تصدیق، 2426 افراد لاپتہ

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں 626 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ 2426 افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانا انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

قدرتی آفت کے ساتھ قانون و نظم کا امتحان

بڑی قدرتی آفت کے دوران انتظامیہ کے سامنے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانون و نظم برقرار رکھنے کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔

تریشولی ندی کے کنارے ملی تجوری سے نقد رقم برآمد ہونے اور ناراینی ندی میں بہہ کر آنے والی خاتون کی لاش سے زیور نکالنے کے الزام میں کارروائی نے اسی چیلنج کو نمایاں کیا ہے۔

دونوں معاملات میں پولیس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی حقیقت اور واقعات میں شامل افراد کے بارے میں حتمی تصویر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

نیپال اس وقت ایک بڑے قدرتی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں امدادی کارروائیوں کے ساتھ متاثرین کی املاک کے تحفظ اور مرنے والوں کے احترام کو یقینی بنانا بھی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

نیپال کی تباہ کن سیلابی صورتحال کا اثر بہار تک، گنڈک ندی میں بہہ کر آرہی لاشوں اور ملبے سے تشویش

نیپال میں پھنسے مہاراشٹر کے تقریباً 100 یاتریوں کو بہار انتظامیہ نے محفوظ نکالا

آفت کے وقت انسانیت سب سے بڑا امتحان

قدرتی آفت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرنا اور متاثرہ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا معاشرے کی سب سے بڑی طاقت بنتا ہے۔ نیپال میں سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ایسے وقت میں متاثرین کی مدد اور ان کے حقوق کا تحفظ سب سے اہم ہونا چاہیے۔

دوسری جانب لوٹ یا لاشوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعات یقیناً تشویش پیدا کرتے ہیں۔ تاہم کسی بھی معاملے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اخذ کیا جانا چاہیے۔

پولیس نے دونوں واقعات میں کارروائی شروع کردی ہے۔ اب تفتیش سے واضح ہوگا کہ لگائے گئے الزامات میں کتنی حقیقت ہے اور واقعات میں اصل میں کون لوگ ملوث تھے۔

فی الحال نیپال کے سامنے سب سے بڑی ترجیح سیلاب متاثرین کی حفاظت، لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *