:
Breaking News

International News: وزیرِاعظم مودی کو ازبکستان کا اعلیٰ ترین ’دوستلیک‘ اعزاز، بھارت-ازبکستان دوستی کو نئی سمت

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | وزیرِاعظم نریندر مودی کو ازبکستان کے اعلیٰ ترین اعزاز ’اولی داراجلی دوستلیک‘ سے نوازا گیا۔ مودی نے اسے بھارت اور ازبکستان کی دیرینہ دوستی اور مشترکہ ورثے سے منسوب کیا۔

ڈیسک، نئی دہلی، 30 اگست۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کو ازبکستان کے اعلیٰ ترین قومی اعزاز ’اولی داراجلی دوستلیک‘ سے نوازے جانے پر انہوں نے صدر شوکت مرزیایوف اور ازبکستان کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیرِاعظم نے اس اعزاز کو دونوں ملکوں کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات، مشترکہ تہذیبی ورثے اور باہمی دوستی کی علامت قرار دیا۔

وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ ’دوستلیک‘ کا مطلب ہی دوستی ہے اور یہی لفظ بھارت اور ازبکستان کے تعلقات کی اصل روح کی سب سے خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا اعزاز ہے۔

وزیرِاعظم نے ہندوستانی عوام کی جانب سے ازبکستان کے صدر، حکومت اور عوام کے لیے اظہارِتشکر کیا۔

صدر شوکت مرزیایوف کی قیادت کو سراہا

وزیرِاعظم مودی نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دوراندیش سوچ اور بھارت کے تئیں دوستانہ جذبات نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران بھارت اور ازبکستان کے درمیان تعاون کے کئی نئے شعبے سامنے آئے ہیں اور باہمی تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔

مودی نے واضح کیا کہ بھارت ازبکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ دونوں ممالک مستقبل میں بھی باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

اعزاز کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی

وزیرِاعظم نے کہا کہ کسی بھی بڑے اعزاز سے خوشی اور فخر محسوس ہونا فطری بات ہے، لیکن اعزاز اپنے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی لے کر آتا ہے۔

انہوں نے ازبکستان کی سرزمین سے وہاں کے عوام کو یقین دلایا کہ بھارت اپنی ذمہ داریوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور دونوں ممالک کے درمیان قائم دوستانہ رشتے کو پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھاتا رہے گا۔

مودی کے مطابق بھارت اور ازبکستان کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے تاریخی اور تہذیبی روابط کی ایک طویل روایت موجود ہے۔

مشترکہ ورثہ دونوں ممالک کو جوڑتا ہے

بھارت اور وسطی ایشیا کے درمیان قدیم زمانے سے تجارت، ثقافت، تعلیم اور عوامی روابط کے ذریعے تعلقات قائم رہے ہیں۔ اسی مشترکہ ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اس تاریخی رشتے کو جدید شراکت داری کے ساتھ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔

گلوبل ساؤتھ کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم

وزیرِاعظم مودی نے عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ازبکستان پوری دیانت داری اور عزم کے ساتھ گلوبل ساؤتھ کی مشترکہ آواز بننے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی پذیر دنیا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ایک بہتر اور پرامن عالمی مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

وزیرِاعظم کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون، اعتماد اور مشترکہ کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جامع اسٹریٹجک شراکت داری سے تعلقات کو نئی رفتار

بھارت اور ازبکستان کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا جانا دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی شراکت داری باہمی اعتماد، دوستی اور مشترکہ تاریخی ورثے کی مضبوط بنیاد پر آگے بڑھے گی۔

دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

بھارت نے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم دہرایا

وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں بھارت کی جانب سے ازبکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستانہ تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔

’دوستلیک‘ اعزاز کو انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس دوستی کو پوری ذمہ داری کے ساتھ آگے لے کر جائے گا۔

مودی نے اس اعزاز کے لیے صدر شوکت مرزیایوف اور ازبکستان کے عوام کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کے لیے ایک یادگار موقع قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت اور وسطی ایشیا کے درمیان بڑھتے تعلقات، تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو

گلوبل ساؤتھ میں بھارت کا بڑھتا کردار، ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون پر زور

خصوصی تبصرہ

بھارت اور ازبکستان کے تعلقات صرف موجودہ سفارتی ضرورتوں تک محدود نہیں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور عوامی روابط کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ ترین قومی اعزاز کے ذریعے وزیرِاعظم نریندر مودی کی پذیرائی کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

’دوستلیک‘ یعنی دوستی کا اعزاز اپنے نام ہی میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیادی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو مسلسل اہمیت دے رہا ہے، جبکہ ازبکستان بھی بھارت کے ساتھ اقتصادی، ثقافتی اور سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت اور عوامی روابط کے شعبوں کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے حوالے سے مشترکہ کوشش بھی دونوں ملکوں کو عالمی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہے۔

اس پس منظر میں ’دوستلیک‘ اعزاز کو صرف ایک شخص کو دیا گیا اعزاز سمجھنے کے بجائے بھارت اور ازبکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *