:
Breaking News

Punjab Politics: راگھو چڈھا کا نام ووٹر لسٹ میں ’Shifted‘، عام آدمی پارٹی سے ٹکراؤ کے بعد پنجاب کی سیاست گرم

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں راگھو چڈھا کا نام ’Shifted‘ درج ہونے کے بعد سیاسی ہلچل تیز، عام آدمی پارٹی اور بی جے پی آمنے سامنے۔

چنڈی گڑھ، 3 ستمبر۔ عالم کی خبر: پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کے نام کے سامنے ’Shifted‘ یعنی منتقل درج ہونے کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ راگھو چڈھا نے اس معاملے کو سیاسی انتقام سے جوڑتے ہوئے عام آدمی پارٹی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ تیار کرنے، نام شامل کرنے یا خارج کرنے کا اختیار ریاستی حکومت کے پاس نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے تحت یہ کارروائی ہوتی ہے۔

راگھو چڈھا کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب سے موجودہ راجیہ سبھا رکن ہیں اور ان کا ووٹر شناختی کارڈ پنجاب کے موہالی میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے باوجود ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ان کے نام کے سامنے ’Shifted‘ لکھا جانا کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

چڈھا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ردعمل میں الزام لگایا کہ پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت سیاسی انتقام کی کارروائی کو اب ڈرافٹ ووٹر لسٹ تک لے آئی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض دفتری یا کلریکل غلطی نہیں لگتی بلکہ اس کے پیچھے سیاسی وجہ نظر آتی ہے۔

بکرم مجیٹھیا نے عام آدمی پارٹی کو گھیرا

راگھو چڈھا کے معاملے پر شرومنی اکالی دل کے سینئر لیڈر بکرم سنگھ مجیٹھیا نے بھی عام آدمی پارٹی پر حملہ کیا۔

مجیٹھیا نے کہا کہ جب راگھو چڈھا عام آدمی پارٹی کے قریب تھے تو انہیں پنجاب سے جوڑا جاتا تھا اور ان کا ووٹ بھی پنجاب میں تھا، لیکن اب بی جے پی میں جانے کے بعد ان کا ووٹ ہی ’Shifted‘ دکھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق ووٹروں کو لسٹ میں شامل کرانے یا نام خارج کرانے کی کوشش کرتی ہے۔

عام آدمی پارٹی کا جواب

عام آدمی پارٹی نے راگھو چڈھا اور اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا ہٹانے کا فیصلہ ریاستی حکومت نہیں کرتی۔

پارٹی لیڈروں نے کہا کہ SIR یعنی Special Intensive Revision کے تحت ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہوتا ہے۔

عام آدمی پارٹی کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے ذرائع سے اسے معلوم ہوا تھا کہ راگھو چڈھا دہلی کے راجندر نگر میں اپنا ووٹر رجسٹریشن کرانے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کے لیے مبینہ طور پر پچھلی تاریخ کی کارروائی اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم اس دعوے کے درمیان الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ دہلی کی ووٹر لسٹ میں راگھو چڈھا کا نام شامل کرانے کے لیے پردے کے پیچھے کسی طرح کی کوشش نہیں کی گئی۔ افسر کے مطابق ایسا کوئی قدم نہ تو اٹھایا گیا تھا اور نہ ہی اٹھایا جا رہا ہے۔

SIR کے قواعد کا بھی حوالہ

الیکشن کمیشن کے افسر نے راگھو چڈھا کے نام سے متعلق SIR کے قواعد کا حوالہ بھی دیا۔ افسر کے مطابق اس معاملے میں SIR آرڈر کی متعلقہ دفعات لاگو ہوتی ہیں، جن میں اہم شخصیات اور عوامی نمائندوں کے لیے ’Protected List‘ کا بھی انتظام موجود ہے۔

اس وضاحت کے بعد معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے، کیونکہ ایک طرف عام آدمی پارٹی دہلی میں ووٹر رجسٹریشن سے متعلق دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کے افسر نے پردے کے پیچھے کسی کوشش کی بات کو مسترد کردیا ہے۔

امن اروڑہ نے کہا، حکومت ووٹر لسٹ نہیں بناتی

عام آدمی پارٹی لیڈر امن اروڑہ نے راگھو چڈھا کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر بنانا یا ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ یہ کارروائی الیکشن کمیشن کے تحت ہوتی ہے۔

امن اروڑہ نے پنجاب میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران بڑے پیمانے پر نام متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق ریاست میں تقریباً 20 لاکھ ووٹ کاٹے گئے ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو پنجاب سے باہر منتقل ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں صرف ایک شخص کے ووٹ کو سیاسی مسئلہ بنانا مناسب نہیں ہے۔

ہربال چیما نے بھی الیکشن کمیشن کی کارروائی قرار دیا

پنجاب کے وزیر خزانہ اور عام آدمی پارٹی لیڈر ہربال سنگھ چیما نے بھی حکومت کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ SIR یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کی مکمل کارروائی الیکشن کمیشن کے تحت ہوتی ہے۔

چیما نے سوال کیا کہ دوسرے علاقوں میں بھی ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام ہٹائے گئے ہیں، تو راگھو چڈھا نے ان معاملات پر سوال کیوں نہیں اٹھایا؟

ان کے مطابق ریاستی حکومت کو ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا خارج کرنے کی کارروائی کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

سوربھ بھاردواج نے بھی راگھو چڈھا پر سوال اٹھائے

عام آدمی پارٹی لیڈر سوربھ بھاردواج نے راگھو چڈھا کے پنجاب میں قیام کو لے کر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ چڈھا دہلی میں رہتے ہیں اور ان کا زیادہ وقت دہلی میں گزرتا ہے۔

بھاردواج نے بی جے پی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام ہٹائے جانے کے معاملے پر بی جے پی کو بھی جواب دینا چاہیے۔

بی جے پی نے عام آدمی پارٹی پر لگایا سنگین الزام

بی جے پی لیڈر پردیپ بھنڈاری نے پورے معاملے پر عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کو پنجاب میں اپنی سیاسی پوزیشن کمزور ہونے کا اندازہ ہے اور اسی وجہ سے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بی جے پی کی جانب سے انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

عمران مسعود نے بھی ووٹر لسٹ پر اٹھائے سوال

اتر پردیش کے سہارنپور سے کانگریس کے لوک سبھا رکن عمران مسعود نے بھی ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے معاملے پر ردعمل دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسے لوگوں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے جائیں جو ووٹ نہیں دے سکے یا مستقبل میں ووٹ نہیں دے پائیں گے تو اس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

راگھو چڈھا کے معاملے کو بھی اسی وسیع تر بحث سے جوڑتے ہوئے عمران مسعود نے انتخابی فہرست کی درستگی اور شفافیت کو اہم قرار دیا۔

ابھی ڈرافٹ لسٹ ہے، حتمی فہرست باقی

راگھو چڈھا کے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ فہرست حتمی ووٹر لسٹ نہیں بلکہ ڈرافٹ لسٹ ہے۔ اس مرحلے پر ووٹر اپنے نام اور تفصیلات کے سلسلے میں دعوے اور اعتراضات درج کرا سکتے ہیں۔

اس لیے راگھو چڈھا کے نام کے سامنے ’Shifted‘ درج کیے جانے کا حتمی انتظامی نتیجہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا۔

فی الحال یہ معاملہ پنجاب کی سیاست میں بی جے پی، عام آدمی پارٹی اور شرومنی اکالی دل کے درمیان ایک نیا سیاسی تنازع بن چکا ہے۔ راگھو چڈھا اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں، عام آدمی پارٹی الیکشن کمیشن کی کارروائی کا حوالہ دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے حکومت پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

آنے والے دنوں میں اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید وضاحت سامنے آتی ہے یا راگھو چڈھا کے ووٹر ریکارڈ میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس معاملے کی تصویر مزید صاف ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پنجاب کی سیاست میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان بڑھا ٹکراؤ، الزامات اور جوابی الزامات تیز

ووٹر لسٹ پر سیاسی گھمسان، SIR کی کارروائی کو لے کر اپوزیشن نے اٹھائے سوال

سیاسی تجزیہ

راگھو چڈھا کے نام کے سامنے ’Shifted‘ لکھا جانا بظاہر ووٹر لسٹ سے متعلق ایک انتظامی معاملہ ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات نے اسے بڑے سیاسی تنازع میں تبدیل کردیا ہے۔ راگھو چڈھا کا ماضی میں عام آدمی پارٹی سے وابستہ رہنا اور اب بی جے پی کا حصہ ہونا اس معاملے کو مزید حساس بنا رہا ہے۔

ایک طرف عام آدمی پارٹی کا موقف ہے کہ ووٹر لسٹ کی تیاری اور SIR کی کارروائی الیکشن کمیشن کے تحت ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف چڈھا اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ ان کا نام ’Shifted‘ کس بنیاد پر درج کیا گیا اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کس طرح ہوئی۔

چونکہ موجودہ فہرست ڈرافٹ ہے، اس لیے حتمی نتیجے سے پہلے سیاسی الزام تراشی کے بجائے دستاویزی وضاحت زیادہ اہم ہوگی۔ ووٹر لسٹ کی درستگی صرف کسی ایک سیاسی رہنما کا معاملہ نہیں بلکہ ہر شہری کے جمہوری حق سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔

اگر ریکارڈ میں واقعی غلطی ہوئی ہے تو اسے مقررہ طریقہ کار کے تحت درست کیا جانا چاہیے، اور اگر نام منتقل کیے جانے کی کارروائی قواعد کے مطابق ہوئی ہے تو متعلقہ ادارے کو اس کی واضح وجہ عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ اسی شفافیت سے اس سیاسی تنازع کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *