:
Breaking News

Delhi News: جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس، آئینی و مذہبی حقوق سمیت مساجد و مدارس کے مسائل پر غور

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں آئینی حقوق، مذہبی آزادی، مساجد و مدارس اور موب لنچنگ سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس، آئینی و مذہبی حقوق پر تفصیلی غور

نئی دہلی، 23 ستمبر 2026 | Alam Ki Khabar: جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس بدھ کے روز نئی دہلی میں مرکزی دفتر کی محمودیہ لائبریری میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال، آئین میں حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساجد و مدارس سے متعلق معاملات، مذہبی مقامات کے تحفظ اور مختلف علاقوں میں سامنے آنے والی انتظامی کارروائیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کی۔

اجلاس کے دوران تنظیم کی جانب سے مختلف ریاستوں میں شہری اور مذہبی حقوق سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی۔ خاص طور پر مساجد اور مدارس کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں، موب لنچنگ کے واقعات اور مذہبی آزادی سے جڑے معاملات کو اہم موضوع کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔

صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت مانگنے کا فیصلہ

اجلاس میں طے کیا گیا کہ جن معاملات پر تنظیم نے تشویش ظاہر کی ہے، انہیں اعلیٰ آئینی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا۔ اسی سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت مانگنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ افراد سے متعلق شکایات اور ان کے تحفظات ان کے سامنے رکھے جا سکیں۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے آئینی اور قانونی فورمز سے رجوع کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے مسائل کو قانونی دائرے میں اٹھانے اور ان کے لیے دستیاب آئینی راستوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مولانا محمود مدنی نے فیصلوں کی تفصیلات بتائیں

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمود اسعد مدنی نے مجلسِ عاملہ میں ہونے والی گفتگو اور فیصلوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے مختلف معاملات میں انتظامیہ کی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ کئی جگہوں پر متاثرہ افراد کو قانونی راستے سے مؤثر کارروائی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مولانا مدنی کے مطابق یہ معاملہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیۃ علماء ہند آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع کے ذریعے ان معاملات کو آگے بڑھائے گی۔

آئینی طریقے سے حقوق کے تحفظ پر زور

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ لوگوں کو اپنے حقوق کے سلسلے میں مایوس یا خوف زدہ ہونے کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو آئین کی طرف سے دیے گئے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور جمہوری راستوں کا استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کے آئینی اور جمہوری نظام کو مضبوط رکھنے، قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

جمعیۃ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تنظیم اپنے موقف اور مطالبات کو آئینی و قانونی پلیٹ فارم پر رکھنے کا عمل جاری رکھے گی۔

مساجد اور مدارس کے معاملات بھی اجلاس میں زیر بحث

اجلاس میں مساجد اور مدارس سے متعلق مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ریاستوں میں مذہبی مقامات اور مدارس سے متعلق انتظامی کارروائیوں کے معاملات سامنے آنے کے پس منظر میں تنظیم نے اپنی آئندہ حکمت عملی پر غور کیا۔

جمعیۃ علماء ہند پہلے بھی مدارس اور مذہبی آزادی سے متعلق معاملات کو آئینی حقوق کے تناظر میں اٹھاتی رہی ہے۔ اپریل 2026 میں اس کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں بھی مدارس کے تحفظ اور مذہبی و آئینی حقوق سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا تھا۔

موب لنچنگ کے واقعات پر بھی تشویش

مجلسِ عاملہ میں موب لنچنگ کے واقعات کو بھی تشویش کے موضوع کے طور پر شامل کیا گیا۔ تنظیم نے ایسے واقعات کے حوالے سے قانونی تحفظ اور شہری حقوق کی صورتحال پر گفتگو کی۔

جمعیۃ کی جانب سے یہ مؤقف سامنے رکھا گیا کہ ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی اور متاثرہ افراد کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ اس کے لیے قانونی و آئینی اداروں سے رجوع کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی بات کہی گئی۔

سہارنپور کی مسجد کا معاملہ بھی پس منظر میں

اجلاس کے پس منظر میں سہارنپور کی تاریخی کچہری مسجد سے متعلق معاملہ بھی اہم رہا۔ مسجد کے انہدام کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وفد بھیجے جانے اور قانونی و انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی اطلاع پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔

تنظیم کی جانب سے اس معاملے کو بھی قانونی طریقے سے آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

مختلف ریاستوں سے ذمہ داران کی شرکت

اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سمیت کئی اہم ذمہ داران شریک ہوئے۔

اجلاس میں جمعیۃ کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن مولانا قاری شوکت علی، مجلسِ قائمہ کے صدر مولانا رحمت اللہ میر کشمیری، نائب امیرِ ہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔

اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، کیرالہ، آسام، ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداران بھی اجلاس میں موجود رہے۔

بہار سے مفتی جاوید اقبال قاسمی، مولانا محمد ناظم قاسمی سمیت دیگر ذمہ داران کی شرکت بھی بتائی گئی ہے۔ اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ اور مختلف ریاستی تنظیموں کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔

سابقہ کارروائی کی توثیق کے بعد شروع ہوئی بحث

اجلاس کے آغاز میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ صدرِ اجلاس کی منظوری کے بعد مجلسِ عاملہ کے ارکان نے موجودہ حالات سے متعلق مختلف نکات پر گفتگو شروع کی۔

تنظیم کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں قومی، مذہبی، آئینی اور تنظیمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کا سلسلہ پہلے بھی جاری رہا ہے۔ جون 2026 کے اجلاس میں بھی موجودہ قومی صورتحال اور آئینی اقدار کے تحفظ سے متعلق قرارداد پر غور کیا گیا تھا۔

قانونی راستوں سے معاملہ اٹھانے کی حکمت عملی

حالیہ اجلاس کے فیصلوں سے واضح ہے کہ جمعیۃ علماء ہند ان معاملات کو صرف تنظیمی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے آئینی اور قانونی فورمز پر بھی لے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔

صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگنے، متاثرہ افراد کے مسائل پیش کرنے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ قانونی و آئینی اداروں سے رجوع کرنے کا فیصلہ اسی حکمت عملی کا حصہ بتایا گیا ہے۔

اب آئندہ مرحلے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت کب ملتا ہے اور جمعیۃ کی جانب سے کن مخصوص معاملات اور دستاویزات کو آئینی سطح پر پیش کیا جاتا ہے۔

آئینی حقوق اور قانونی راستوں پر توجہ

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا تازہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی مقامات، مدارس، شہری حقوق اور قانونی کارروائیوں سے متعلق معاملات پر بحث جاری ہے۔ تنظیم نے اپنے موقف کو آئینی اور قانونی دائرے میں رکھنے اور دستیاب جمہوری ذرائع استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں سامنے آنے والے فیصلوں کا اگلا مرحلہ قانونی کارروائی، متعلقہ اداروں سے رابطے اور متاثرہ افراد کے مسائل کو آئینی سطح پر پیش کرنے سے متعلق ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

جمعیۃ علماء ہند، آئینی حقوق، مذہبی آزادی، مساجد و مدارس اور ملک کی اہم سماجی و قانونی خبروں سے متعلق تازہ معلومات Alam Ki Khabar پر پڑھیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *