:
Breaking News

Indian Politics: گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن مارچ میں بی جے ڈی کی شمولیت، نوین پٹنائک کے فیصلے سے سیاسی بحث تیز

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں اپوزیشن کے مارچ میں بی جے ڈی بھی شامل ہوئی۔ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے کی غیر موجودگی کے درمیان نوین پٹنائک کی پارٹی کے اس قدم نے سیاسی بحث تیز کر دی ہے۔

دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مارچ میں بی جے ڈی کی شرکت نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نوین پٹنائک کی قیادت والی بی جے ڈی کا اس مارچ میں شامل ہونا اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس پروگرام میں ایک ساتھ نظر نہیں آئیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات کو لے کر دہلی میں احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا۔ اس دوران بی جے ڈی کے نمائندوں کی موجودگی نے سیاسی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے اس مارچ میں شامل نہیں ہوئیں۔

بی جے ڈی کی شرکت کو اپوزیشن کے وسیع تر سیاسی اتحاد کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس شرکت کو براہ راست کسی مستقل سیاسی اتحاد میں شمولیت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، لیکن انتخابی عمل سے متعلق معاملے پر بی جے ڈی کا اپوزیشن کے احتجاج کے ساتھ کھڑا ہونا سیاسی طور پر اہم اشارہ ضرور سمجھا جا رہا ہے۔

نوین پٹنائک کی سیاست میں بی جے ڈی نے کئی مواقع پر اپنے الگ سیاسی موقف کو برقرار رکھا ہے۔ مرکز کی سیاست میں پارٹی نے مختلف معاملات پر حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپنے تعلقات کے مطابق موقف اختیار کیا ہے۔ ایسے میں موجودہ احتجاج میں پارٹی کی شرکت نے اس کے آئندہ سیاسی رخ کو لے کر بھی قیاس آرائیوں کو بڑھا دیا ہے۔

مارچ میں عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے کی غیر موجودگی بھی توجہ کا مرکز رہی۔ اپوزیشن کے اندر مختلف جماعتوں کے الگ الگ موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتخابی معاملات پر مشترکہ اعتراضات کے باوجود تمام پارٹیاں ہر احتجاجی پروگرام میں ایک ہی انداز سے شریک نہیں ہو رہی ہیں۔

کانگریس کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ مارچ میں شامل نہ ہونے والی کچھ جماعتیں بھی معاملے پر اپوزیشن کے موقف سے اتفاق رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود بی جے ڈی کی براہ راست موجودگی نے احتجاج کی سیاسی اہمیت بڑھا دی۔

سیاسی ماہرین کی نظر میں بی جے ڈی کا یہ قدم خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ نوین پٹنائک طویل عرصے سے اڑیسہ کی سیاست میں مضبوط علاقائی حیثیت رکھتے ہیں۔ قومی سطح کے کسی بڑے سیاسی معاملے پر ان کی پارٹی کا موقف دیگر علاقائی جماعتوں کے لیے بھی ایک اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔

تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بی جے ڈی کی اس شرکت سے قومی سطح پر کسی نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ پارٹی کی آئندہ حکمت عملی، پارلیمنٹ میں اس کا موقف اور انتخابی معاملات پر اس کے اگلے فیصلے ہی یہ واضح کریں گے کہ موجودہ سیاسی قربت کس سمت بڑھتی ہے۔

گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اب صرف ایک احتجاجی پروگرام تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ اس معاملے نے الیکشن کمیشن، انتخابی عمل اور اپوزیشن جماعتوں کے باہمی سیاسی تعلقات کو ایک بار پھر قومی بحث کے مرکز میں لا دیا ہے۔ ایسے میں نوین پٹنائک کی بی جے ڈی کی شرکت آنے والے دنوں میں بھی سیاسی تجزیوں کا موضوع بنی رہ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

الیکشن سے متعلق بڑے فیصلوں، سیاسی جماعتوں کے موقف اور قومی سیاست کی اہم پیش رفت سے متعلق تازہ خبروں کے لیے Alam Ki Khabar سے جڑے رہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *