:
Breaking News

India News: ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، راہل گاندھی، اکھلیش اور تیجسوی سمیت 11 اپوزیشن رہنما درخواست گزار

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت 11 اپوزیشن رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی۔ بارکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ بھی نکالا گیا۔

نئی دہلی، 12 اکتوبر 2026، عالم کی خبر:

ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے قانونی محاذ پر اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل سے متعلق خدشات کو اٹھاتے ہوئے اپوزیشن کے 11 رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ اس معاملے میں کانگریس رہنما راہل گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اہم رہنما شامل ہیں۔

عرضی دائر کرنے والوں میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، آر جے ڈی رہنما تیجسوی پرساد یادو، ترنمول کانگریس کے سوگتا رائے، شیوسینا کے سنجے راوت، سی پی آئی کے ڈی راجا، سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بیبی، مہوا ماجی، سپریا سولے اور ای ٹی محمد بشیر کے نام شامل ہیں۔

سپریم کورٹ تک مارچ، پولیس نے روکا راستہ

عرضی کے معاملے کے ساتھ اپوزیشن رہنماؤں نے دہلی میں سپریم کورٹ کی جانب مارچ بھی کیا۔ یہ مارچ بارکھمبا روڈ سے شروع ہوا، لیکن راستے میں پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے باعث رہنماؤں کو آگے بڑھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ایس آئی آر اور انتخابی عمل سے متعلق اپوزیشن کے اعتراضات ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت اور منصفانہ طریقۂ کار کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق شکایات کا مناسب جائزہ لیا جائے، تاکہ اہل ووٹروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش

رہنماؤں نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت سے ملاقات کی کوشش بھی کی، تاہم انہیں ملاقات کا وقت نہیں مل سکا۔ اس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ایس آئی آر کے معاملے کو عدالت کے سامنے اٹھانے کی کوششوں پر توجہ مرکوز رہی۔

اس معاملے میں اصل قانونی بحث عرضی میں اٹھائے گئے نکات، انتخابی کمیشن کے موقف اور عدالت کے آئندہ اقدامات پر منحصر ہوگی۔ عرضی دائر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے ابھی اپوزیشن کے الزامات کو درست قرار دے دیا ہے؛ ان نکات پر فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

اپوزیشن کا زور شفاف انتخابی عمل پر

ایس آئی آر کے معاملے پر مختلف اپوزیشن جماعتیں پہلے بھی اپنے تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں۔ اب سپریم کورٹ میں عرضی دائر ہونے سے یہ معاملہ قانونی سطح پر بھی زیر غور آ گیا ہے۔ آئندہ سماعت میں عدالت کا رخ اور متعلقہ فریقوں کی جانب سے پیش کی جانے والی دلیلیں اہم ہوں گی۔

اپوزیشن کی اس پیش قدمی کے بعد انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، ووٹروں کے حقوق اور انتخابی عمل کی شفافیت پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

انتخابی عمل اور ملک کی سیاست سے متعلق تازہ خبروں کے لیے Alam Ki Khabar پڑھتے رہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *