:
Breaking News

National News: ایس آئی آر تنازع پر اپوزیشن کے احتجاج کے بعد دہلی میں چار ایف آئی آر درج، راہل گاندھی نے اپوزیشن رہنماؤں کو چائے پر بلایا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے معاملے پر INDIA بلاک کے احتجاج کے بعد دہلی کے چار تھانوں میں ایف آئی آر درج ہونے کی اطلاع ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی آئندہ حکمت عملی پر بھی نظر ہے۔

نئی دہلی: ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر (SIR) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے معاملے پر اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی میں INDIA بلاک کے احتجاج کے بعد پولیس نے چار الگ الگ تھانوں میں ایف آئی آر درج کی ہیں۔ دوسری جانب کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے گھر پر چائے کی نشست کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔

چار پولیس اسٹیشنوں میں ایف آئی آر درج

موصولہ تفصیلات کے مطابق، احتجاج کے سلسلے میں دہلی پولیس نے کنّاٹ پلیس، تلک مارگ، بارکھمبا اور مندر مارگ پولیس اسٹیشنوں میں چار ایف آئی آر درج کی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن جماعتیں ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

تاہم، ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات، ان کی قانونی دفعات اور پولیس کی جانب سے کارروائی کی مکمل تفصیلات کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔ ایف آئی آر درج ہونا بذاتِ خود کسی شخص یا جماعت کے خلاف الزامات ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔

سپریم کورٹ تک مارچ، کئی جماعتوں کے رہنما شریک

پیر کو اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے خلاف بارکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ کی سمت مارچ نکالا تھا۔ اس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور اکھلیش یادو سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس احتجاج میں 11 سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حصہ لیا۔

اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی اعتراض ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے طریقۂ کار اور انتخابی عمل میں شفافیت سے متعلق ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، حذف کرنے اور بحال کرنے کے عمل میں واضح اصول اور مناسب نگرانی ہونی چاہیے۔

اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ نے ایس آئی آر کے معاملے پر سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی ہے۔ اس معاملے میں عدالتی کارروائی اور عدالت کے سامنے پیش کیے گئے دلائل اہم ہوں گے، کیونکہ حتمی قانونی صورتِ حال کا تعین متعلقہ عدالتی عمل کے مطابق ہی ہوگا۔

راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی نشست

سیاسی سرگرمیوں کے درمیان راہل گاندھی نے آج شام چار بجے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی رہائش گاہ پر چائے کے لیے مدعو کیا ہے۔ اس ملاقات میں ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاج، الیکشن کمیشن سے متعلق اعتراضات اور آگے کی حکمت عملی پر گفتگو ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ INDIA بلاک کے رہنما ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کر سکتے ہیں۔ تاہم، پریس کانفرنس کے انعقاد اور اس کے وقت کی باضابطہ تصدیق ضروری ہوگی۔

اکتوبر میں کئی مرتبہ احتجاج

فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اپوزیشن ارکان نے 6، 7، 8، 9 اور 12 اکتوبر کو ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔ ان مظاہروں کے دوران کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو بھی مختلف مواقع پر پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل پر اٹھنے والے سوالات کا واضح جواب دیا جائے اور انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری طرف، ان اعتراضات اور ان کے قانونی پہلوؤں پر متعلقہ اداروں کا مؤقف بھی اہم ہے۔

انتخابی کمشنروں کے اعتراضات سے متعلق رپورٹ

ایس آئی آر کے معاملے میں ایک اور بحث اس وقت سامنے آئی جب ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انتخابی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات ظاہر کیے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ اعتراضات ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، نام حذف کرنے اور پہلے حذف کیے گئے ناموں کو دوبارہ بحال کرنے کے طریقۂ کار سمیت مختلف امور سے متعلق تھے۔ انتخابی ڈیٹا اور اسے چلانے والے سافٹ ویئر تک رسائی کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ دعوے رپورٹ کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں؛ ان کی مکمل تفصیلات اور متعلقہ دستاویزات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

فارم-6 میں تبدیلی پر بھی سوال

رپورٹ میں ایک معاملے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں فارم-6 میں ایس آئی آر سے متعلق سوال شامل کرنے پر دونوں انتخابی کمشنروں نے اعتراض کیا تھا۔ فارم-6 ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے عمل سے متعلق اہم فارم ہے، اس لیے اس میں کسی بھی تبدیلی کے انتخابی عمل پر اثرات کا جائزہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح، انتخابی ڈیٹا اور سافٹ ویئر تک رسائی سے متعلق تشویش کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس سلسلے میں کابینہ سکریٹری کو خط لکھے جانے اور کام کی تقسیم سے متعلق ایک حکم پر قواعد کی خلاف ورزی کا اعتراض کیے جانے کا ذکر ہے۔

ان معاملات کی حقیقت اور مکمل سیاق و سباق کو سمجھنے کے لیے متعلقہ خطوط، احکامات اور انتخابی کمیشن کی وضاحتوں کا جائزہ اہم ہوگا۔

اب آئندہ کیا ہوگا؟

ایس آئی آر کے معاملے پر اپوزیشن کا احتجاج، دہلی پولیس کی ایف آئی آر اور سپریم کورٹ میں دائر عرضی، تینوں محاذوں پر پیش رفت اہم رہنے والی ہے۔ راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر مجوزہ ملاقات سے یہ بھی واضح ہو سکتا ہے کہ INDIA بلاک آئندہ دنوں میں احتجاج جاری رکھے گا یا کوئی مشترکہ سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کرے گا۔

فی الحال معاملے کے کئی پہلو زیرِ بحث ہیں۔ پولیس کی کارروائی، عدالت میں عرضی اور انتخابی کمشنروں کے مبینہ اعتراضات سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی پوری صورتِ حال زیادہ واضح ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی عمل، سیاست اور ملک کی اہم خبروں کے لیے Alam Ki Khabar کے دیگر مضامین بھی پڑھیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *