:
Breaking News

National News: دہلی میں انٹرنیٹ بندش پر مرکز کی سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی، میٹرو پابندیوں پر بھی جواب

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج کے دوران موبائل انٹرنیٹ بندش پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگی۔ میٹرو پابندیوں پر بھی وضاحت سامنے آئی۔

نئی دہلی، 15 اکتوبر: دہلی میں 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری گووند موہن نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ یہ قدم امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے پابندی کو ضروری اور حالات کے مطابق قرار دیتے ہوئے عدالت سے اپنے موقف پر غور کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ <Cite refs={["turn631762search0","turn631762search7"]}/>


حکومت نے حلف نامے میں کیا کہا؟


مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں واضح کیا کہ دہلی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی ایک محدود علاقے اور مقررہ مدت کے لیے کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، نئی دہلی کے رائسینا ہلز کے چار کلومیٹر کے دائرے میں 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک سیلولر انٹرنیٹ خدمات بند رکھی گئی تھیں۔


حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ بدامنی کو روکنے اور امن برقرار رکھنے کے مقصد سے کیا گیا۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ پابندی موبائل انٹرنیٹ تک محدود تھی، جبکہ وائی فائی اور براڈبینڈ جیسی غیر سیلولر خدمات اس کے دائرے میں شامل نہیں تھیں۔


مرکز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ضرورت کے حالات میں قانون اور متعلقہ ضابطوں کے مطابق انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کی گنجائش پر غور کیا جائے۔ <Cite refs={["turn631762search0","turn631762search10"]}/>


سپریم کورٹ نے پابندیوں پر کیوں اعتراض کیا؟


یہ معاملہ 10 اکتوبر کو دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے مجوزہ احتجاج سے متعلق ہے۔ پارٹی نے خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے معاملے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔


احتجاج سے پہلے دہلی میں سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر پابندیاں لگائی گئیں، موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں اور کئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔


9 اکتوبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سکیورٹی انتظامات میں تناسب برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ کسی ممکنہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضرورت سے زیادہ سخت اقدامات نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کے بعد 11 اکتوبر کو عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے اور لوگوں کی آمد و رفت، میٹرو خدمات اور انٹرنیٹ کی دستیابی کے حوالے سے ہدایات دیں۔ <Cite refs={["turn944150news18","turn944150news20","turn631762search8"]}/>


DMRC نے 45 میٹرو اسٹیشنوں کے بارے میں کیا وضاحت دی؟


دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے سپریم کورٹ میں وضاحت پیش کی کہ 10 اکتوبر کو پوری میٹرو سروس بند نہیں کی گئی تھی۔ اس کے مطابق، دہلی میٹرو نیٹ ورک کے 303 اسٹیشنوں میں سے 45 اسٹیشنوں پر داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کو محدود کیا گیا تھا۔


DMRC کے مطابق، پولیس کی ہدایات کی بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی گئیں، جبکہ باقی نیٹ ورک پر ٹرینوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ ادارے نے عدالت میں اپنے اقدامات پر غیر مشروط معافی بھی پیش کی اور کہا کہ اس کا مقصد عدالت کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنا نہیں تھا۔


یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ احتجاج کے دوران میٹرو خدمات مکمل طور پر بند ہونے کے تاثر اور محدود اسٹیشنوں پر پابندی کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ <Cite refs={["turn631762search1","turn631762search2"]}/>


احتجاج اور حراست کا معاملہ بھی زیر بحث


CJP نے جنتَر منتر پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، دہلی پولیس نے اجازت اور امن و امان سے متعلق خدشات کی بنیاد پر مظاہرے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ پارٹی کے رہنماؤں اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے معاملے پر بھی عدالت میں سوالات اٹھائے گئے۔


درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ احتجاج کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت اور بنیادی آزادیوں پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں لگائی گئیں۔ دوسری جانب پولیس نے اپنے حلف نامے میں سکیورٹی خدشات اور ممکنہ بدنظمی کا حوالہ دیتے ہوئے اقدامات کا دفاع کیا۔


عدالت کے سامنے معاملہ صرف میٹرو یا انٹرنیٹ کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں پُرامن احتجاج کے حق، شہریوں کی آمد و رفت اور حراست کے قانونی جواز جیسے سوالات بھی شامل ہیں۔ <Cite refs={["turn631762news24","turn631762search4","turn631762search8"]}/>


اب آگے کیا ہوگا؟


مرکزی حکومت کی غیر مشروط معافی کے باوجود انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کو ضروری قرار دینے کا موقف برقرار ہے۔ اس لیے عدالت کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ آیا حالات کے پیش نظر کیے گئے اقدامات قانونی تقاضوں اور تناسب کے اصول کے مطابق تھے یا نہیں۔


میٹرو انتظامیہ نے بھی پابندیوں کی نوعیت واضح کرتے ہوئے معافی مانگی ہے، جبکہ دہلی پولیس نے اپنے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔ اب سپریم کورٹ متعلقہ حلف ناموں اور درخواستوں پر غور کرتے ہوئے آئندہ کارروائی طے کرے گی۔


یہ معاملہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کی حکومتی ذمہ داری اور شہریوں کے آزادانہ نقل و حرکت، رابطے اور پُرامن احتجاج کے حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ عدالت کا آئندہ موقف اس بحث میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔


یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے دہلی میں احتجاج سے پہلے میٹرو اور انٹرنیٹ پابندیوں پر کیا ہدایات دی تھیں؟


Alam Ki Khabar | ملک اور دنیا کی اہم خبروں کے لیے alamkikhabar.com سے جڑے رہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *