:
Breaking News

India News: دہلی پولیس نے CJP رہنماؤں کے خلاف مقدمہ کرائم برانچ کو سونپا، عدالتی حراست میں دو دن کی توسیع

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی پولیس نے CJP رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا سے متعلق مقدمہ کرائم برانچ کو سونپ دیا۔ دونوں کی عدالتی حراست میں دو دن کی توسیع کی گئی ہے۔

20 اکتوبر 2026، Alam Ki Khabar: نئی دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملے میں دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کر دی ہیں۔ یہ کارروائی دونوں رہنماؤں کی عدالتی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کے بعد سامنے آئی ہے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق، دونوں رہنماؤں پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر ایک نجی احاطے سے گزر کر جنتر منتر پہنچے، جہاں احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس اس معاملے میں مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ الزامات پر حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔


عدالتی حراست میں دو دن کی توسیع


داس اور رانکا 14 اکتوبر سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ پیر کے روز اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت نے ان کی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی۔ دونوں کو بدھ کے روز دوبارہ پیش کیے جانے کی اطلاع ہے۔


عدالتی حکم میں مجسٹریٹ ریتو راج نے دونوں کے طرزِ عمل پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کے دوبارہ ایسی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکم کے مطابق، اجازت نہ ملنے والی جگہوں پر بار بار احتجاج کی اپیلوں سے امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔


ضمانت داروں کی دستاویزات پر بھی اعتراض


رپورٹس کے مطابق، عدالت نے ضمانت کے لیے پیش کیے گئے دونوں ضامنوں کی دستاویزات اور معلومات میں خامیوں کی نشاندہی کی۔ ایک ضامن کے بانڈ اور شناختی دستاویز کی تصاویر میں فرق پایا گیا، جبکہ وہ دوسرا شناختی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ دوسرے ضامن سے بھی اس شخص کے بارے میں بنیادی معلومات دریافت کی گئیں جس کے لیے وہ ضمانت دینے آیا تھا، لیکن وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔


ان خامیوں کے باعث ضمانت کے عمل میں دشواری پیش آئی۔


احتجاج اور گرفتاریوں کا پس منظر


کاکروچ جنتا پارٹی نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ جنتر منتر پر مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کے مطابق، 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج سے پہلے اس کے بانی ابھیجیت دیپکے اور دیگر رہنماؤں کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا تھا۔


بعد میں آشوتوش رانکا اور سورَو داس ترنگا لے کر جنتر منتر پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ مظاہرین نے پابندیوں کی خلاف ورزی کی، جبکہ پارٹی نے کارروائی اور رہنماؤں کی رہائی میں تاخیر پر اعتراض کیا ہے۔


پہلے بھی احتجاج اور گرفتاریاں ہو چکی ہیں


دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف CJP نے 16 اکتوبر کو کنّاٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ترنگا ریلی کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو بھی ریلی سے پہلے حراست میں لیا گیا اور بعد میں ضمانت مل گئی۔


اسی دوران دہلی پولیس نے احتجاج اور مارچ سے متعلق مختلف مقدمات درج کیے ہیں۔ ان میں بعض دیگر سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں سے وابستہ افراد کے نام بھی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔


CJP اس سے پہلے NEET امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی احتجاج کر چکی ہے۔ اب پارٹی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر احتجاج جاری رکھنے کی بات کر رہی ہے۔


تازہ معاملے میں کرائم برانچ کی تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ فی الحال دونوں رہنماؤں کے خلاف الزامات زیرِ تفتیش ہیں اور قانونی کارروائی کا اگلا مرحلہ عدالت میں طے ہوگا۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *