:
Breaking News

جسٹس سنجے کشن کول: ججوں کی تقرری پر ڈی وائی چندرچوڑ سے اختلاف، عدلیہ کی آزادی پر زور

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | سپریم کورٹ کے سابق جج سنجے کشن کول نے عدلیہ کی آزادی، ججوں کی تقرری اور کالجیم کے طریقۂ کار پر اپنی رائے پیش کی۔ سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ سے اختلاف کی تفصیل پڑھیں۔

28 اکتوبر 2026 | Alam Ki Khabar: سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کشن کول نے عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ اپنی آنے والی کتاب ‘Without Fear or Favour’ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتیں عموماً ایسے ججوں کو پسند کرتی ہیں جن کے خیالات ان سے میل کھاتے ہوں۔ ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے ججوں کو مضبوطی کے ساتھ اپنے آئینی فرائض انجام دینے چاہئیں۔


ججوں کی تقرری پر ڈی وائی چندرچوڑ سے اختلاف


جسٹس سنجے کشن کول نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کے ساتھ ججوں کی تقرری کے معاملے میں اپنے اختلافات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے کالجیم کو ججوں کے ناموں پر پہلے آزادانہ طور پر غور کرنا چاہیے اور اس کے بعد اپنی سفارش حکومت کو بھیجنی چاہیے۔


ان کے مطابق سفارش بھیجنے سے پہلے حکومت سے منظوری لینے یا اس کی رائے پر انحصار کرنے سے کالجیم کی آزادانہ فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کا عمل غیر ضروری طور پر طویل نہیں ہونا چاہیے۔


جسٹس کول کے خیال میں تقرری کے عمل میں تاخیر اور پیچیدہ طریقۂ کار کی وجہ سے اہل وکلا عدالتی ذمہ داری قبول کرنے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ حکومت کو ضروری معلومات فراہم کرنا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن اس کی وجہ سے تقرریوں میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔


چندرچوڑ کے ساتھ ذاتی تعلقات اچھے، مگر سوچ الگ تھی


جسٹس کول نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات اچھے رہے، تاہم ججوں کی تقرری کے معاملے میں دونوں کی سوچ مختلف تھی۔ انہوں نے چندرچوڑ کے رویے کو اس معاملے میں حکومت کے سامنے ضرورت سے زیادہ نرم قرار دیا۔


دوسری جانب چندرچوڑ نے کہا کہ کتاب پڑھے بغیر اس کے مندرجات پر تفصیلی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپنے دور میں کالجیم کی میٹنگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں باہمی احترام کا ماحول رہا اور جسٹس کول کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال خوشگوار رہا۔


عدلیہ کی آزادی اور آئینی ذمہ داری


جسٹس کول کے بیان میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ججوں کی تقرری میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان رابطے کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق عدلیہ کا کام آئین کی حفاظت کرنا اور حکومت کے اقدامات کا قانونی جائزہ لینا ہے۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں کو سیاسی لڑائی لڑنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ سیاسی اختلافات کے لیے دوسرے جمہوری پلیٹ فارم موجود ہیں، تاہم آئینی اور قانونی سوالات پر عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔


دفعہ 370 اور جموں و کشمیر کے معاملات پر بھی رائے


جسٹس سنجے کشن کول دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ کی اس پانچ رکنی آئینی بنچ کا حصہ تھے جس نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔


انہوں نے جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے جاری تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کا جائزہ لینے کے لیے ایک غیر جانب دار سچائی اور مفاہمت کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔ ان کے مطابق متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ماضی کی غلطیوں اور واقعات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔


رافیل طیارہ سودے کے معاملے میں بھی انہوں نے عدالت کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفاعی سودوں میں عدالت کو حکومت کے فیصلوں کی جگہ اپنا فیصلہ مسلط کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔


طویل قید اور ضمانت کے معاملے پر تشویش


جسٹس کول نے ایسے مقدمات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جن میں ملزمین کو جرم ثابت ہونے سے پہلے طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑتا ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کے معاملے پر بھی انہوں نے اس وسیع تر سوال کی طرف توجہ دلائی کہ مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے طویل قید کسی شخص کے لیے سزا جیسی صورت حال پیدا کر سکتی ہے۔


عمر خالد اور شرجیل امام پر فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کی مبینہ سازش میں شامل ہونے کے الزامات ہیں۔ دونوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون، یعنی UAPA کے تحت مقدمہ درج ہے۔ الزامات اور جرم ثابت ہونے کے درمیان فرق برقرار رکھنا فوجداری انصاف کے نظام کا اہم اصول ہے۔


کتاب کے ذریعے کالجیم نظام پر بحث پھر تیز


جسٹس سنجے کشن کول کی آنے والی کتاب ‘Without Fear or Favour’ کے حوالے سے عدلیہ کی آزادی، ججوں کی تقرری اور حکومت کے ساتھ ادارہ جاتی تعلقات پر بحث ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔


اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ کالجیم ججوں کی تقرری کے فیصلے کس طرح آزادانہ طور پر کرے اور حکومت کے ساتھ ضروری رابطے کے باوجود عدلیہ کی خود مختاری کس طرح برقرار رکھی جائے۔


یہ بھی پڑھیں: ملک، آئین اور عدلیہ سے متعلق مزید خبروں کے لیے Alam Ki Khabar پڑھیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *