:
Breaking News

SIR Protest Kochi: ابھیجیت دیپکے کا دعویٰ، 13 کروڑ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | کیرالہ کے کوچی میں SIR کے خلاف احتجاج کے دوران ابھیجیت دیپکے نے 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ اداکار پرکاش راج نے بھی جمہوریت کے تحفظ کے لیے عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔

7 نومبر 2026 | Alam Ki Khabar


کوچی: کیرالہ کے شہر کوچی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے خلاف منعقدہ احتجاج کے دوران سیاسی ماحول گرم ہوگیا۔ احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچے ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام خارج ہونے کے بعد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟


کوچی ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ کسی ایک شخص یا تنظیم کا احتجاج نہیں بلکہ عوام کی آواز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ منتظمین اور اداکار پرکاش راج کی دعوت پر اس پروگرام میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔


انتخابی نظام کی شفافیت پر اٹھائے سوالات


ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کے معاملے پر تشویش پائی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جب بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹا دیے جاتے ہیں تو انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔


انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابی نظام قائم نہیں ہوجاتا۔


مغربی بنگال کا بھی کیا ذکر


میڈیا سے بات چیت کے دوران ابھیجیت دیپکے نے مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہاں بی جے پی کی کامیابی کے بعد انتخابی کمیشن سے متعلق عہدوں پر تقرریوں کو لے کر بھی تنازع پیدا ہوا تھا۔


ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نظام کی غیر جانب داری برقرار رکھنے کے لیے ایسے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔


پرکاش راج کی عوام سے احتجاج میں شرکت کی اپیل


اداکار پرکاش راج نے بھی SIR کے خلاف منعقدہ احتجاج کے سلسلے میں عوام سے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے شہریوں کو متحد ہونا ہوگا۔


ابھیجیت دیپکے کے علاوہ سورَو داس اور آشوتوش رانکا بھی احتجاج میں شرکت کے لیے کوچی پہنچے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے طریقہ کار اور اس کے ممکنہ اثرات کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔


بی جے پی نے احتجاج پر اٹھائے سوالات


دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان کے وی ایس ہری داس نے اس پروگرام کو لے کر کیرالہ حکومت سے سوال کیا کہ کیا ریاستی حکومت کو ایسے پروگرام کی حمایت کرنی چاہیے؟


انہوں نے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کی جانب سے CJP کے بارے میں لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیا۔ جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کے ایک رہنما کو مبینہ طور پر امریکہ میں موجود ہندوستان مخالف طاقتوں سے اور دوسرے رہنما کو پاکستان کے سیاست دانوں سے مالی مدد ملی ہے۔


بی جے پی ترجمان نے ان الزامات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کیرالہ حکومت اور پولیس سے اپیل کی کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور متعلقہ افراد کو ریاست میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔


SIR پر سیاسی بحث مزید تیز


کوچی میں ہونے والا یہ احتجاج ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ملک میں خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کو لے کر سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کے درمیان بحث جاری ہے۔ ایک طرف ووٹروں کے حقوق اور ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کے عمل پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی نے احتجاج میں شامل افراد کے حوالے سے مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا معاملہ اٹھایا ہے۔


اب اس پورے معاملے پر متعلقہ اداروں اور سیاسی جماعتوں کے آئندہ ردعمل پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔


مکمل خبر پڑھنے کے لیے Alam Ki Khabar پڑھیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *