:
Breaking News

بہار کی سیاست میں بڑی ہلچل: وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل تیز، بی جے پی نے حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے د

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بہار میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ بی جے پی نے مرکزی نگران مقرر کر کے قیادت کے انتخاب کی تیاری شروع کر دی ہے، سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔

پٹنہ / عالم کی خبر:بہار کی سیاست ایک مرتبہ پھر اہم اور فیصلہ کن موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ ریاست میں ممکنہ قیادت کی تبدیلی اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں غیر معمولی طور پر تیز ہو گئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث یہی ہے کہ اگر موجودہ حالات میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو نئی قیادت کا فیصلہ کس طریقہ کار کے تحت اور کس کے زیرِ نگرانی کیا جائے گا۔

اس پورے سیاسی منظرنامے کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی حکمتِ عملی کو مزید فعال کرتے ہوئے تنظیمی سطح پر اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور خطوط کے بعد سیاسی گلیاروں میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے کہ بہار میں آئندہ قیادت کا انتخاب کس سمت میں جائے گا اور اس عمل میں کن رہنماؤں کا کردار مرکزی ہوگا۔

پارٹی کے مرکزی قیادت ڈھانچے کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق بہار میں قانون ساز پارٹی کے رہنما کے انتخاب کے لیے مرکزی مبصر (Central Observer) مقرر کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سینئر رہنما Shivraj Singh Chouhan کو مبصر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی نامزدگی کو سیاسی حلقے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ مبصر کا کردار عام طور پر قیادت کے انتخاب میں فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی مبصر کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تمام منتخب ارکانِ اسمبلی سے براہِ راست رابطہ کریں، ان کی رائے لیں اور پھر اکثریتی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر قیادت کے انتخاب کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیو راج سنگھ چوہان کی تقرری کو محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار میں اس وقت سیاسی ماحول کافی متحرک ہے اور مختلف سطحوں پر قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اگرچہ کسی بھی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن تنظیمی سطح پر کی جانے والی یہ تیاریاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مستقبل قریب میں بڑا سیاسی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔

پارٹی کے اندرونی نظام کے مطابق قانون ساز پارٹی کی میٹنگ بلائی جاتی ہے، جس میں تمام اراکین اسمبلی اپنی رائے دیتے ہیں۔ اسی اجلاس میں مرکزی مبصر کی نگرانی میں نئے قائد کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس پورے عمل کو جمہوری اور تنظیمی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مبصر کی تقرری دراصل اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ پارٹی کسی بڑے فیصلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے بہار کی سیاست میں اس وقت اس فیصلے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔

دوسری جانب عام سیاسی فضا میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ اگر قیادت میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر ریاست کے سیاسی توازن پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اتحادی جماعتیں اور اپوزیشن دونوں ہی اس صورتحال کو اپنے اپنے سیاسی نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہیں۔

اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کب منعقد ہوتی ہے اور اس میں کس نام پر اتفاق کیا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند دن بہار کی سیاست کے لیے نہایت اہم اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

فی الحال صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ قیادت کے انتخاب سے متعلق قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں، لیکن حتمی فیصلہ صرف پارٹی کی مرکزی قیادت اور قانون ساز اراکین کی باہمی مشاورت کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ تب تک تمام دعوے اور خبریں سیاسی اندازوں کے زمرے میں شمار کی جائیں گی۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *