:
Breaking News

بہار سیاست میں ہلچل کے دوران نتیش کمار کا سارن دورہ، فاضل ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ، استعفیٰ سے قبل سرگرمیوں نے بحث چھیڑ دی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بہار میں سیاسی ہلچل کے درمیان وزیراعلیٰ نتیش کمار نے استعفیٰ سے قبل سارن میں بکرپور-مانکپور فُورلین سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے افسران کو تیز رفتاری اور معیار برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔

سارن/آلَم کی خبر:بہار میں سیاسی سرگرمیوں اور نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان وزیراعلیٰ نتیش کمار کا سارن ضلع کا دورہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ ایک طرف ریاست میں ممکنہ قیادت کی تبدیلی اور استعفیٰ سے متعلق خبریں زیر گردش ہیں، تو دوسری طرف وزیراعلیٰ زمینی سطح پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا مسلسل معائنہ کرتے نظر آئے۔ اسی تناظر میں سارن میں ان کا یہ دورہ نہ صرف انتظامی لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی اس پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بکرپور-مانکپور فُورلین سڑک منصوبے اور جے پی سیٹو کے متوازی تعمیر ہونے والے نئے پل کے کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود افسران اور تعمیراتی ایجنسیوں سے منصوبے کی پیش رفت، معیار اور وقت کی پابندی کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور واضح ہدایات دیں کہ کسی بھی صورت میں معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سارن بلکہ پورے شمالی بہار کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے مکمل ہونے سے ٹریفک کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، سڑکوں پر دباؤ کم ہوگا اور عوام کو طویل عرصے سے درپیش ٹریفک جام کی مشکلات سے نجات ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر رابطہ سڑکیں کسی بھی خطے کی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، اور یہ منصوبہ مقامی تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو نئی رفتار دے گا۔

دورے کے دوران وزیراعلیٰ کو باضابطہ طور پر پاتھ کنسٹرکشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری نے بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ پٹنہ-بتیہ ایکسپریس وے کے پہلے مرحلے پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس کا ہدف اپریل 2027 تک مکمل کرنا رکھا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ایک گرین فیلڈ پروجیکٹ ہے جو پٹنہ سے بتیہ تک براہ راست رابطہ فراہم کرے گا اور سفر کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرے گا۔

سیاسی حلقوں میں اس دورے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ریاست میں قیادت کی تبدیلی اور ممکنہ کابینہ تبدیلیوں پر بحث زوروں پر ہے۔ تاہم انتظامی سطح پر حکومت کا مؤقف یہی ہے کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سمیت مختلف محکموں کے نمائندے بھی موقع پر موجود رہے۔ مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف آمد و رفت آسان ہوگی بلکہ سارن اور آس پاس کے علاقوں میں ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عوام کی نظریں ریاست کی سیاسی صورتحال پر بھی مرکوز ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر بھی۔ وزیراعلیٰ کی سرگرم موجودگی نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ انتظامی تسلسل اور سیاسی تبدیلی کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جا رہا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *