:
Breaking News

اداریہ رپورٹ | مظفرپور سے ہزاروں امیدیں — مگر وزیرِ اعظم مودی کی تقریر نے بہار والوں کو مایوس کیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

              محمد عبید اللہ

جمعرات (30 اکتوبر 2025) کو وزیر اعظم نریندر مودی بہار کے مظفرپور پہنچے۔ جلسہ انتخابی تھا، انداز پرانا، لہجہ جارحانہ — آر جے ڈی اور کانگریس پر خوب حملے ہوئے، چھٹھی مَیّا کی جے جے کار بھی گونجی، مگر بہار کے عوام پھر ایک بار مایوسی کے سائے میں گھر گئے۔وزیرِ اعظم مودی نے کہا، "آپ کا یہ بیٹا چھٹھی مَیّا کی جے جے کار پوری دنیا میں کرانے میں لگا ہے، لیکن آر جے ڈی اور کانگریس کے لوگ چھٹھی مَیّا کی توہین کر رہے ہیں۔" انہوں نے سوال اٹھایا، "کیا کوئی صرف ووٹ لینے کے لیے چھٹھی مَیّا کا اپمان کر سکتا ہے؟"
مگر ان کے پورے خطاب میں ایک بات نمایاں رہی — ترقی کا کوئی ذکر نہیں!گیارہ سال سے دہلی میں مودی حکومت ہے اور پچھلے بیس برس سے بہار میں این ڈی اے کی، پھر بھی نہ کوئی فیکٹری لگا، نہ کوئی روزگار کی بات ہوئی۔ عوام کے دل میں سوال ہے:
"آخر مودی جی کے پاس ترقی کا ایجنڈا کیوں نہیں؟ ہر بار چھٹھی مَیّا، سیتا مَیّا، مندر، مسجد اور لالو کا پرانا راگ ہی کیوں سنایا جاتا ہے؟"مظفرپور کے ایک نوجوان نے کہا، "ہمیں امید تھی کہ وزیرِ اعظم کوئی بڑا اعلان کریں گے — کوئی صنعت، کوئی روزگار اسکیم — مگر وہ پھر پرانے مدعوں پر لوٹ گئے۔"
ادھر لکھی سرائے میں وزیرِ داخلہ امت شاہ نے راہل گاندھی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ "راہل بابا نے وزیرِ اعظم مودی کی توہین کرتے ہوئے چھٹھی مَیّا کی بھی توہین کی ہے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ "چودہ نومبر کو جب ووٹوں کے ڈبّے کھلیں گے تو مہاگٹھ بندھن صاف ہو جائے گا۔"
لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ بہار کے عوام اب مذہب اور عقیدت کی سیاست سے زیادہ روزگار، تعلیم اور صنعت کی بات سننا چاہتے ہیں۔ دو دہائیوں کی حکومت کے بعد بھی اگر بہار میں ترقی کی بات غائب ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔
چھٹھی مَیّا کی جے اپنی جگہ، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ بہار کے اسٹیج سے نعرہ گونجے —
"جے بہار کی ترقی!"

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *