:
Breaking News

"بہار 2025: جب نظریہ خاموش ہوا اور طاقت بولی — سیاست کی وراثت اب بہو بلیوں کے نام!"

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بہار اسمبلی الیکشن 2025 میں اس بار سیاست کی وراثت کا چہرہ بدل چکا ہے۔جہاں کبھی بہار کو سماجواد (سوشلسٹ تحریک) کی جنم بھومی کہا جاتا تھا، آج وہاں بندوق والوں کی نسلیں تخت و تاج سنبھال رہی ہیں۔سماجوادی خاندانوں کے وارث ٹکٹ کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہ گئے، جبکہ بہو بلیوں کے بیٹے، بیٹیاں اور بیویاں بغیر محنت کے امیدوار بن گئیں۔

 سماجوادی نظریہ پس منظر میں

بہار کے وہ گھرانے جو کبھی اصولوں اور نظریے کے لیے جانے جاتے تھے، اس بار انتخابی دوڑ سے باہر دکھے۔

شرد یادو کے بیٹے شانتی نُو یادو اور بیٹی سُبھاشِنی دونوں کو پارٹیوں نے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا۔

بی پی منڈل کے پوتے نِکھل منڈل، جو پچھلی بار جدیو کے ٹکٹ پر لڑے تھے، اس بار فہرست سے غائب ہیں۔

وشِشٹھ نارائن سنگھ کے بیٹے پرسھانْت سونو سمیت کئی پرانے سماجوادی خاندان سیاست کے حاشیے پر چلے گئے۔


اب بہار کی سیاست میں ایک جملہ عام ہو چکا ہے —یہاں نظریہ نہیں، نوٹری چلتی ہے۔ یہاں قلم نہیں، قد چلتا ہے!"

 بہو بلی خاندانوں کا دب دبا

اس انتخاب میں ہر بڑی پارٹی نے طاقتور خاندانوں کو فوقیت دی ہے۔

آر جے ڈی نے مرحوم محمد شہاب الدین کے بیٹے اوسامہ شہاب کو سیوان سے میدان میں اتارا۔

مُنّا شکلا کی بیٹی شِوانی شکلا لال گنج سے امیدوار ہیں۔

ویٖنا دیوی، جو مَوْکاما کے بااثر لیڈر سورج بھان سنگھ کی اہلیہ ہیں، آر جے ڈی کی امیدوار ہیں، جبکہ اننت سنگھ اُسی سیٹ سے جدیو کے ٹکٹ پر لڑ رہے ہیں۔

آنند موہن کے بیٹے چیتن آنند اور راج بلّبھ یادو کی بیوی وبھا دیوی کو بھی ٹکٹ مل چکا ہے۔


 سبھی پارٹیوں کو طاقت سے پرہیز نہیں

راجد، جدیو، بی جے پی یا کانگریس — کسی کو بہو بلیوں سے گریز نہیں۔
آدھے درجن سے زیادہ بااثر چہرے اس بار پارٹی بدل چکے ہیں۔
طاقت، تحفظ اور اثر — اب یہی سیاست کی نئی کرنسی ہے۔

 بہار کی سیاست کا نیا چہرہ

اب بہار میں نظریات نہیں، نظریں بندوق پر ہیں۔جہاں کبھی سماجواد کی گونج تھی، وہاں اب ایک نیا نعرہ سنائی دیتا —جس کے پاس طاقت ہے، اسی کے پاس ٹکٹ ہے!"

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *