:
Breaking News

مؤکاما میں سیاست کے میدان میں خون کی بارش: دلار چند یادو کا قتل، سیاست دانوں پر الزامات کی بوچھاڑ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

پٹنہ / مؤکاما | 30 اکتوبر 2025:
بہار کی انتخابی سیاست اس وقت لرز اٹھی جب جَن سُراج پارٹی کے سرگرم کارکن دُلار چند یادَو کو جمعرات کی شام گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اننت سنگھ اور جَن سُراج پارٹی کے قافلے ایک دوسرے کے سامنے آگئے، اور نعرے بازی دیکھتے ہی دیکھتے خونی تصادم میں بدل گئی۔
پُرانی دشمنی یا انتخابی سازش؟

پولیس کے مطابق، ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ کے پیچھے پرانی رقابت اور انتخابی جوش دونوں کا ہاتھ ہے۔ پولیس نے اسے ’’مشکوک حالات میں موت‘‘ قرار دیا ہے، مگر CCTV فوٹیج اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اصل سچ سامنے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

دُلار چند یادَو، جو کبھی لالو پرساد یادَو کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے، حال ہی میں جَن سُراج پارٹی کے اُمیدوار پیوُش پریہ درشی کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے تھے۔ انھوں نے اُن کے لیے انتخابی نغمہ بھی گایا تھا۔

 اہلِ خانہ کا الزام — ’’یہ ایک منصوبہ بند قتل ہے‘‘

مرنے والے کے پوتے نیراج کمار نے میڈیا سے گفتگو میں الزام لگایا:
یہ قتل اننت سنگھ کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ ہمارے دادا کے خلاف وہ کافی دنوں سے ناراض تھے۔ اننت سنگھ ہمیشہ اسلحہ کے ساتھ گھومتے ہیں، مگر اُن کی گاڑی کوئی چیک نہیں کرتا۔‘‘
اہلِ خانہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے، آخری رسومات انجام نہیں دی جائیں گی۔

 تیجسوی یادَو کا طنز — ’’جب باہو بلی کو ٹکٹ ملے گا تو گولی نہیں چلے گی؟‘‘

قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادَو نے واقعے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:چناؤ آچار سنہیتا کے دوران لوگ بندوق لے کر کیسے گھوم رہے ہیں؟ یہ بہار کہاں جا رہا ہے؟ ایک طرف سیوان میں اے ایس آئی کو مار دیا گیا، دوسری طرف مؤکاما میں ایک کارکن کو گولی مار دی گئی۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ سب اُن لوگوں کی بوکھلاہٹ ہے جنہیں اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے۔

جَن سُراج پارٹی کا احتجاج — ’’یہ جمہوریت پر حملہ ہے‘‘

پارٹی کے صوبائی صدر منوج بھارتی نے کہا:
جو لوگ ’جَنگل راج‘ کا خوف دِکھا کر ووٹ مانگتے ہیں، وہی آج اس کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ہمارے جمہوری حق پر وار ہے۔‘‘
 اننت سنگھ کا جوابی وار — ’’RJD امیدوار کا شوہر ملوث ہے‘‘
الزامات کے گھیرے میں آئے سابق ایم پی اننت سنگھ نے دفاعی لہجے میں کہا:
میرا قافلہ بھی نشانہ بنایا گیا۔ RJD امیدوار کے شوہر سورج بھان سنگھ اس واقعے میں ملوث ہیں۔‘‘

 6 نومبر کی ووٹنگ سے پہلے مؤکاما میں خوف و اضطراب

انتخاب سے محض چند دن پہلے یہ قتل پورے علاقے میں تناؤ اور خوف کی فضا پیدا کر چکا ہے۔
بہار کے سیاسی میدان میں ایک بار پھر وہی پرانا سوال گونج رہا ہے —
کیا یہاں سیاست کا مطلب اب بھی طاقت، بندوق اور خونی اثر و رسوخ ہے؟

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *