:
Breaking News

ر انتخاب 2025: این ڈی اے یا مہاگٹھ بندھن؟ روزگار، مفت بجلی اور خواتین کیلئے کون دے رہا ہے بڑے وعدے؟

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

پٹنہ | بیورو رپورٹبہار اسمبلی انتخاب 2025 کا دنگل اب وعدوں اور منشور کی جنگ میں بدل چکا ہے۔اقتدار میں موجود این ڈی اے اور مخالف اتحاد مہاگٹھ بندھن، دونوں نے ووٹروں کو لبھانے کے لیے وعدوں کی برسات کر دی ہے — کہیں مفت بجلی کی بات ہے تو کہیں ہر گھر نوکری کا اعلان۔
اب سوال یہ ہے کہ کون سا اتحاد بہار کے عوام کے خوابوں کو حقیقت میں بدل پائے گا؟

 روزگار کی لڑائی: این ڈی اے کا 1 کروڑ نوکری کا وعدہ بمقابلہ مہاگٹھ بندھن کا ’ہر گھر نوکری‘ منصوبہ

این ڈی اے کے منشور میں 1 کروڑ سے زائد سرکاری نوکریوں اور ریاست بھر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
ہر ضلع میں میگا اسکل سینٹر قائم کیا جائے گا تاکہ بہار کو “گلوبل اسکلنگ حب” کے طور پر ترقی دی جا سکے۔آٹو، ٹیکسی اور ای-رکشہ ڈرائیورز کو چار لاکھ روپے کا لائف انشورنس اور بغیر ضمانت کم سود پر قرض دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔دوسری طرف مہاگٹھ بندھن نے روزگار کو اپنی سب سے بڑی چابی بنایا ہے۔ان کا وعدہ ہے کہ ہر خاندان کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دی جائے گی۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت بننے کے 20 مہینوں کے اندر نوکریاں دینا شروع کر دی جائیں گی۔اس کے علاوہ، منریگا مزدوری ₹255 سے بڑھا کر ₹300 یومیہ کرنے اور مزدوروں کی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 خواتین کے لیے وعدوں کی دوڑ: کون زیادہ فیاض؟

این ڈی اے نے “وزیر اعلیٰ خواتین روزگار یوجنا” کے تحت خواتین کو 2 لاکھ روپے تک مالی امداد دینے اور 1 کروڑ خواتین کو ’لکپتی دیدی‘ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ادھر مہاگٹھ بندھن نے خواتین کو معاشی استحکام دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔منشور میں کہا گیا ہے کہ تمام جیوِکا دیدیوں (کمیونٹی موبیلائزرز) کو مستقل سرکاری ملازم کا درجہ دیا جائے گا اور انہیں 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔ساتھ ہی “مائی بہن مان یوجنا” کے تحت خواتین کو ہر ماہ ₹2,500 کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔

 انتہائی پسماندہ طبقات: سماجی انصاف کی کشمکش

این ڈی اے نے انتہائی پسماندہ طبقات کے مختلف پیشہ ور گروہوں کو 10 لاکھ روپے کی امداد دینے اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا ہے جو ان کی معاشی و سماجی حالت کا جائزہ لے گی۔مہاگٹھ بندھن نے بڑا سیاسی وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 50 فیصد ریزرویشن کی حد بڑھانے کے لیے اسمبلی میں بل پاس کر کے اسے آئین کی نویں شیڈول میں شامل کرنے کے لیے مرکز کو بھیجا جائے گا۔

 مفت بجلی: 125 یونٹ بمقابلہ 200 یونٹ

بجلی کے محاذ پر مقابلہ دلچسپ ہے۔این ڈی اے نے 125 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے،
جبکہ مہاگٹھ بندھن نے ہر گھر کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا دعویٰ کیا ہے۔یعنی اس میدان میں حزبِ اختلاف کچھ آگے دکھائی دے رہی ہے۔

 تعلیم: این ڈی اے کا معیار پر زور، مہاگٹھ بندھن کا سہولت پر

این ڈی اے نے وعدہ کیا ہے کہ بہار میں کے جی سے پی جی تک مفت معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔
ساتھ ہی “ایجوکیشن سٹی” قائم کی جائے گی اور 5000 کروڑ روپے سے اہم ضلعی اسکولوں کو جدید بنایا جائے گا۔مہاگٹھ بندھن نے طلبہ کے مالی بوجھ کو ہلکا کرنے کا وعدہ کیا ہے —مقابلاتی امتحانات کے فارم اور فیس ختم، امتحانی مراکز تک مفت آمدورفت، اور ہر انومنڈل میں خواتین کالج قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 غریبوں اور کسانوں کے لیے کون بہتر؟

این ڈی اے کی “پنج امرت گارنٹی” کے تحت غریبوں کو ملیں گے —
مفت راشن، 125 یونٹ مفت بجلی، 5 لاکھ تک علاج، 50 لاکھ پکے مکانات اور سماجی تحفظ پنشن۔
کسانوں کے لیے “کرپوری ٹھاکر کسان سمّان ندھی” کے تحت سالانہ ₹9,000 روپے دینے اور ایگری انفراسٹرکچر میں ₹1 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ایم ایس پی پر خریداری اور پانچ میگا فوڈ پارکس بنانے کی بھی بات کی گئی ہے۔
دوسری جانب مہاگٹھ بندھن نے ₹500 میں گیس سلنڈر، فصل اور کسان بیمہ اسکیم، اور مکھانا صنعت کے فروغ کا وعدہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ آٹھویں سے بارہویں جماعت تک کے غریب طلبہ کو ٹیبلٹ دینے کا اعلان بھی شامل ہے۔

 آخر میں سوال وہی: وعدے بہت ہیں، اعتبار کسے؟

دونوں اتحادوں نے اپنے منشور میں ’نیا بہار‘ دکھانے کا خواب پیش کیا ہے۔ایک طرف این ڈی اے ’ سے سِدّھی‘ کی بات کرتا ہے،
تو دوسری جانب مہاگٹھ بندھن ’، روزگار اور احترام‘ کا نعرہ بلند کر رہا ہے۔اب فیصلہ بہار کی عوام کے ہاتھ میں ہے —کون سا وعدہ حقیقت میں بدلے گا اور کون صرف انتخابی نعرہ بن کر رہ جائے گا؟




https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *