:
Breaking News

مکاما قتل کے بعد الیکشن کمیشن سخت ایکشن میں، اسلحہ جمع کرانے کا حکم

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

پٹنہ: مکاما میں جن سوراج پارٹی کے کارکن دلارچند یادو کے قتل کے بعد بہار کی انتخابی فضا مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ اس واقعے کے بعد الیکشن کمیشن نے ریاستی انتظامیہ کو فوری ایکشن لینے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے تمام اضلاع میں لائسنس یافتہ اسلحہ جمع کرانے اور غیر قانونی ہتھیاروں کی برآمدگی کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے جمعہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس میٹنگ میں الیکشن کمشنر ایس ایس سنڈھو اور ویویک جوشی بھی موجود تھے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ “پرامن اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہماری اولین ترجیح ہے، کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔”

حساس علاقوں میں نگرانی سخت

کمیشن نے ریاست کی سرحدوں پر سخت نگرانی رکھنے، مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھنے اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات دیے۔ حساس اور اہم پولنگ مراکز پر اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی جبکہ اسٹرانگ رومز اور ای وی ایم کی حفاظت کے انتظامات پر بھی غور کیا گیا۔

مکاما میں کشیدگی برقرار، ایک اور ایف آئی آر درج

دوسری جانب، مکاما میں جن سوراج کے حامی دلارچند یادو کے قتل کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ پندارک تھانے میں آر جے ڈی امیدوار وینا دیوی کے حامیوں کی شکایت پر ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جمعہ کو دلارچند کی جنازہ یاترا کے دوران ہنگامہ ہوا تھا، جس میں وینا دیوی کے قافلے کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس واقعے میں سمت، سونو اور گولو کو ملزم بنایا گیا ہے۔

چار مقدمے درج

اب تک مکاما قتل کیس میں چار ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں—تین بھدور تھانے میں اور ایک پندارک تھانے میں۔ دلارچند کے پوتے نیراج کمار نے اپنے بیان میں اننت سنگھ، ان کے بھتیجوں راجویر و کرم ویر، چھوٹن سنگھ اور کنجے سنگھ کو نامزد کیا ہے۔ دوسری طرف اننت سنگھ کے حامی جتیندر کمار نے جن سوراج امیدوار پریہ درشی پیوش اور ان کے ساتھیوں پر قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

کمیشن کا دو ٹوک پیغام

الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا:
قانون و نظم میں کسی قسم کی نرمی برداشت نہیں ہوگی، اسلحے کی سیاست نہیں بلکہ ووٹ کی طاقت چلے گی۔”
اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ انتظامیہ مکاما جیسے حساس علاقوں میں امن قائم رکھ پائے گا یا نہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WFjBsbnRGynLAAcEBKkdkgA

JIIrWLeyvcMNkyMOoeQsmOfl