:
Breaking News

پٹنہ میں "شاٹ گن" کا نیا سیاسی نشانہ: شتروگھن سنہا نے جن سوراج کے پروفیسر کے سی سنہا کے حق میں دیا بیان، کہا — "بہار کو اب پڑھے لکھے لیڈر کی ضرورت ہے!"

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بہار کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ اس بار مرکز میں ہے پٹنہ کی کُمہراڑ اسمبلی سیٹ، جہاں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمان اور بالی ووڈ کے معروف اداکار شتروگھن سنہا نے جن سوراج پارٹی کے امیدوار پروفیسر کے سی سنہا کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شتروگھن سنہا نے لکھا:

> "وزیر اعظم نریندر مودی ہمارے دوست ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ بہار کے مستقبل اور آنے والی نسلوں پر توجہ دی جائے۔ کُمہراڑ کے عوام سے میری اپیل ہے کہ وہ ایماندار اور تعلیم یافتہ امیدوار پروفیسر کے سی سنہا کو ووٹ دیں۔ جے بہار! جے ہند!"



یہ بیان آتے ہی پٹنہ کے سیاسی گلیاروں میں بھونچال آگیا۔ ایک زمانے میں بی جے پی کے مضبوط لیڈر رہے شتروگھن سنہا، پھر کانگریس سے جڑے اور اب ترنمول کے ایم پی ہیں—ایسے میں ان کا جن سوراج امیدوار کے لیے کھل کر حمایت میں آنا بڑا اشارہ مانا جا رہا ہے۔

کُمہراڑ کیوں خاص ہے؟
کُمہراڑ اسمبلی سیٹ ہمیشہ سے کایست ووٹ بینک کے لیے مشہور رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شتروگھن سنہا اور پروفیسر کے سی سنہا دونوں ہی اسی برادری سے آتے ہیں۔ اس لیے یہ برادری فیکٹر انتخابی نتیجے کو پلٹ بھی سکتا ہے۔

کون ہیں پروفیسر کے سی سنہا؟
پروفیسر کے سی سنہا ملک بھر میں اپنی مشہور ریاضی کی کتابوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ پٹنہ یونیورسٹی کے سابق پرنسپل اور وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بڑی پہچان رکھنے والے پروفیسر سنہا اس بار جن سوراج پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور پرشانت کشور (PK) کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

سیاسی منظر نامہ بدلنے کی تیاری؟
قابلِ ذکر ہے کہ ترنمول کانگریس قومی سطح پر انڈیا الائنس کا حصہ ہے، اور ممتا بینرجی نے بہار میں تیجسوی یادو کو سپورٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ مگر اب ان کی ہی پارٹی کے ایم پی شتروگھن سنہا جن سوراج امیدوار کے لیے حمایت مانگ رہے ہیں — جو کہ سیاسی منظرنامے میں ایک نیا موڑ لاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے:
کیا "شاٹ گن" کے اثر اور کایست ووٹ بینک کے سہارے پروفیسر کے سی سنہا کُمہراڑ کی کرسی جیت پائیں گے؟
یا پھر یہ سیٹ پرانی روایت کے مطابق کسی اور کے نام رہے گی؟

ایک بات طے ہے — کُمہراڑ اب بہار کے انتخابی میدان کا سب سے ہاٹ "پولیٹیکل کلاس روم" بن چکا ہے، اور شتروگھن سنہا نے پھر سے بہار کی سیاست کو ایک نیا زاویہ دے دیا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *