:
Breaking News

"یوپی کا بلڈوزر بہار پہنچا، اکھلیش کا طنز— سیاست میں گرمی بڑھ گئی"

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بہار اسمبلی انتخابی مہم اس بار مکمل طور پر اتر پردیش کی سیاست کے رنگ میں ڈوبی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ہر پارٹی یوپی ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے ووٹروں کو لبھانے میں مصروف ہے۔ بلڈوزر، قانون و نظم، رام مندر اور وکاس جیسے موضوعات بہار کے اسٹیج پر گونج بن کر ابھر رہے ہیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہم صرف بہار تک محدود نہیں بلکہ 2027 کے یوپی اسمبلی انتخاب کا ٹریلر بھی ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بہار کی انتخابی ریلیوں میں یوپی ماڈل کو اپنی سب سے بڑی طاقت کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے یوپی میں صرف نام نہیں بلکہ کام سے پہچان بنائی ہے، ایودھیا کا رام مندر، کاشی وشوناتھ دھام اور پریاگ راج کا دیویہ کمبھ ہماری کارکردگی کے ثبوت ہیں۔"یوگی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اب بہار میں بھی مافیا پر بلڈوزر چلے گا کیونکہ یوپی کا بلڈوزر نہ رکنے والا ہے نہ جھکنے والا۔
دوسری طرف سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے پوربی چمپارن کی ریلی سے یوگی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ "بی جے پی کا صفایا طے ہے، یوپی کے وہ ایک رنگی لیڈر ہیں جنہیں نام بدلنے کی بیماری ہے— وہ نام، پہناوا اور نظریہ تک بدل دیتے ہیں۔" اکھلیش نے کہا کہ سماج وادی حکومت نے ایکسپریس وے جیسے ترقیاتی منصوبے دیے، بی جے پی نے ان کی نقل کر کے صرف بدعنوانی بڑھائی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بہار اب یوپی کی انتخابی حکمت عملی کا تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ دونوں ریاستوں کی سماجی اور ثقافتی یکسانیت نے سیاست کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ بی جے پی یوپی ماڈل کے ذریعے اپنی ترقی کی تصویر دکھا رہی ہے، جبکہ ایس پی اور کانگریس اسے جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے کر عوام کو متاثر کرنے کی کوشش میں ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دونوں جانب زبانی حملے تیز ہیں۔ ایک طرف یوگی کے نعروں میں بلڈوزر کی گرج ہے، تو دوسری طرف اکھلیش کے جملے طنز اور تیکھے تیر بنے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہار کی انتخابی ہوا اب صرف بہار کی نہیں رہی— یہ یوپی کی سیاست کا آئینہ بن چکی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *