:
Breaking News

ساکیت عمارت حادثہ: 5 منزلہ عمارت گرنے سے 6 افراد جاں بحق، غیر قانونی تعمیر اور انتظامی غفلت بے نقاب

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

دہلی کے ساکیت میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ غیر قانونی تعمیر اور انتظامی غفلت سامنے آئی۔

دہلی کے ساکیت علاقے میں ہفتے کی شام ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا جب سائدولاجاب کے علاقے میں واقع ایک پانچ منزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ یہ واقعہ ساکیت میٹرو اسٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں چند ہی لمحوں میں پوری عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی اور اس کے نیچے متعدد افراد دب گئے۔ اس حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 9 افراد شدید زخمی ہیں۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار اور خوفزدہ کر دیا ہے۔

حادثے کے وقت قریبی علاقے میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ لوگ قریبی کینٹین میں کھانا کھا رہے تھے، کچھ طلبہ موجود تھے اور عام دن کی طرح زندگی رواں دواں تھی۔ اچانک عمارت کے گرنے سے پورا علاقہ دھول اور مٹی کے بادل میں ڈھک گیا اور لمحوں میں ایک عام شام ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گئی۔ کئی لوگ اس حادثے سے سنبھل بھی نہ سکے اور براہ راست ملبے کی زد میں آ گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ حادثہ انتہائی تیزی سے پیش آیا۔ چند سیکنڈ میں پوری عمارت زمین پر آ گری اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ لوگوں نے بتایا کہ ملبہ اتنا زیادہ تھا کہ کسی کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ کینٹین میں بیٹھے افراد، طلبہ اور مقامی شہری سب اس حادثے کی زد میں آ گئے۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو شروع کیا اور پولیس، این ڈی آر ایف، سول ڈیفنس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔

ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور بڑے پیمانے پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا گیا۔ تاہم بھاری ملبے اور عمارت کے مکمل طور پر منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ رات بھر امدادی کارروائیاں جاری رہیں اور کئی افراد کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے متعدد افراد کو مردہ قرار دیا۔

یہ حادثہ صرف ایک قدرتی سانحہ نہیں بلکہ انتظامی غفلت اور غیر قانونی تعمیرات کا نتیجہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اس عمارت میں کافی عرصے سے غیر قانونی تعمیر کا کام جاری تھا۔ کئی بار شکایات درج کرائی گئیں کہ عمارت کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں اور اس پر اضافی منزلیں غیر قانونی طور پر تعمیر کی جا رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ انہوں نے بار بار پولیس اور میونسپل کارپوریشن کو اس عمارت کے خطرناک ہونے کی اطلاع دی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہ عدالت سے بھی رجوع کیا تھا تاکہ اس عمارت کے خلاف کارروائی ہو سکے۔ تاہم تمام شکایات کے باوجود فائلیں بند کر دی گئیں اور صورتحال کو نظر انداز کیا گیا۔

مارچ کے مہینے میں بھی اس عمارت کے حوالے سے ایک سنگین شکایت سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بیسمنٹ میں تعمیراتی کام جاری ہے اور اوپر اضافی منزلیں غیر قانونی طور پر بنائی جا رہی ہیں۔ اس وقت پولیس اور ایم سی ڈی کی ٹیم نے موقع کا معائنہ کیا تھا، لیکن بعد میں رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہو رہی۔ یہی فیصلہ بعد میں ایک بڑے سانحے کی بنیاد بن گیا۔

ہائی کورٹ میں بھی اس معاملے کو لے کر درخواست دائر کی گئی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ عمارت خطرناک حالت میں ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ لیکن اس وارننگ کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

حادثے کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن کی میئر نے خود تسلیم کیا کہ اس واقعے میں افسران کی سنگین غفلت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکایات کو نظر انداز کیا گیا جس کے باعث یہ بڑا حادثہ پیش آیا۔ اس کے بعد ابتدائی کارروائی میں دو جونیئر انجینئرز کو معطل کر دیا گیا اور پورے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جانچ کے احکامات جاری کیے گئے۔

حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ساکیت اور آس پاس کے علاقوں میں تمام عمارتوں کی جانچ کی جائے گی اور جہاں بھی غیر قانونی تعمیرات پائی جائیں گی، وہاں سخت کارروائی کی جائے گی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور امداد کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر کارروائی کی جاتی تو شاید یہ حادثہ ٹالا جا سکتا تھا۔ کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ہیں جن میں کچھ نوجوان طلبہ بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ پورے علاقے کے لیے ایک گہرا صدمہ بن چکا ہے۔

فی الحال این ڈی آر ایف اور پولیس کی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور تحقیقات میں مصروف ہیں۔ جیسے جیسے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر مزید غفلت سامنے آئی تو اس پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ حادثہ صرف ایک عمارت کے گرنے کا واقعہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بار بار شکایات کے باوجود بروقت قدم نہیں اٹھائے گئے اور اس کی قیمت معصوم جانوں کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *