:
Breaking News

Supreme Court News: ٹریبونلز میں تقرری کے لیے نیا نظام، حکومت نیشنل ٹریبونلز کمیشن کا بل لوک سبھا میں لائے گی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Supreme Court News | Parliament News | ٹریبونلز کے چیئرمین اور ارکان کی تقرری کے لیے حکومت نیشنل ٹریبونلز کمیشن قائم کرنے کا بل لوک سبھا میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ڈیسک، نئی دہلی، 9 اگست۔ عالم کی خبر: ملک کے مختلف ٹریبونلز میں چیئرمین اور ارکان کی تقرری کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت آئندہ ہفتے لوک سبھا میں ایک نیا بل پیش کرنے والی ہے، جس میں نیشنل ٹریبونلز کمیشن قائم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ مجوزہ کمیشن کو مختلف ٹریبونلز میں اعلیٰ عہدوں پر تقرری کے عمل کو منظم کرنے کے ساتھ شفافیت، یکسانیت اور ادارہ جاتی آزادی کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔

یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کے نظام میں اصلاحات اور ایک مستقل قومی کمیشن قائم کرنے سے متعلق ہدایات کے پس منظر میں سامنے آ رہا ہے۔ عدالت نے ٹریبونلز سے متعلق موجودہ قانونی انتظام میں بعض دفعات پر اعتراض کرتے ہوئے ٹریبونلز کے لیے ایک زیادہ آزاد اور منظم نظام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

حکومت کے مجوزہ قانون کا مقصد مختلف ٹریبونلز میں تقرری کے عمل کو ایک ہی اصول کے تحت لانا اور ایسے ادارہ جاتی انتظامات کرنا ہے جن سے چیئرمین اور ارکان کی تقرری کے ساتھ ان کے کام کاج میں بھی بہتری آئے۔

نیشنل ٹریبونلز کمیشن میں کون کون ہوگا؟

مجوزہ قانون کے مطابق نیشنل ٹریبونلز کمیشن کا صدر دفتر قومی دارالحکومت میں قائم کیا جائے گا۔ کمیشن پانچ ارکان پر مشتمل ہوگا۔

اس میں ایک چیئرمین کے علاوہ دو عدالتی ارکان اور دو تکنیکی ارکان شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔ اس ساخت کے ذریعے عدالتی تجربے اور متعلقہ شعبوں کی تکنیکی مہارت دونوں کو کمیشن کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

کمیشن کے چیئرمین کے عہدے کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا کسی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کو اہل قرار دینے کی تجویز ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اعلیٰ عدالتی تجربے کو کمیشن کی قیادت کے لیے اہمیت دی جائے گی۔

ٹریبونلز کے لیے کمیشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ملک میں مختلف شعبوں کے لیے متعدد ٹریبونلز قائم ہیں۔ ان اداروں میں ٹیکس، کمپنی معاملات، سروس سے متعلق تنازعات، مالی معاملات اور دیگر مخصوص نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

ٹریبونلز کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خصوصی نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ ایسے فورم پر ہو جہاں متعلقہ شعبے کے ماہرین اور قانونی ماہرین موجود ہوں۔ اس سے عام عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور معاملات کو نسبتاً تیزی سے نمٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم گزشتہ کئی برسوں میں ٹریبونلز کے خالی عہدوں، تقرریوں میں تاخیر، مدتِ کار اور انتظامی اختیارات جیسے مسائل مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے بعض اداروں میں مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

مجوزہ کمیشن کے ذریعے حکومت اسی انتظامی اور تقرری کے نظام کو زیادہ منظم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کا کیا تعلق ہے؟

ٹریبونلز کے نظام کو لے کر سپریم کورٹ میں کئی برسوں سے قانونی بحث چلتی رہی ہے۔ عدالت نے اپنے مختلف فیصلوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹریبونلز کو انتظامیہ کے غیر ضروری اثر سے آزاد رکھا جائے اور تقرری کا طریقہ ایسا ہو جس سے اداروں کی غیر جانب داری برقرار رہے۔

ٹریبونلز ریفارمز ایکٹ، 2021 کی بعض دفعات کو بھی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں منسوخ کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے ٹریبونلز کے لیے مستقل قومی کمیشن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

حکومت اب نئے قانون کے ذریعے اسی سمت میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ بل میں ٹریبونلز کی تقرری اور انتظامی معاملات کے لیے ایک مرکزی ادارہ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

تقرری میں شفافیت پر زور

مجوزہ کمیشن کا ایک اہم مقصد ٹریبونلز کے چیئرمین اور ارکان کے انتخاب کے عمل میں شفافیت لانا ہے۔ اس وقت مختلف ٹریبونلز کے لیے تقرری کے معاملات الگ الگ انتظامات اور قانونی دفعات کے تحت ہوتے رہے ہیں۔

اگر ایک مرکزی کمیشن کے ذریعے انتخاب کا عمل انجام دیا جاتا ہے تو مختلف ٹریبونلز میں تقرری کے لیے یکساں اصول بنائے جا سکتے ہیں۔

اس سے اہل امیدواروں کے انتخاب، خالی عہدوں کو بروقت پُر کرنے اور تقرری کے عمل میں واضح معیار قائم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

عدالتی اور تکنیکی ماہرین کو ایک جگہ لانے کی کوشش

مجوزہ کمیشن میں دو عدالتی اور دو تکنیکی ارکان شامل کرنے کی تجویز کا مقصد مختلف نوعیت کی مہارت کو ایک ادارے میں جمع کرنا ہے۔

عدالتی ارکان قانونی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں، جبکہ تکنیکی ارکان متعلقہ شعبوں کے پیچیدہ معاملات میں اپنی مہارت فراہم کریں گے۔

اس انتظام سے توقع کی جا رہی ہے کہ ٹریبونلز کے لیے اہل امیدواروں کا انتخاب زیادہ جامع طریقے سے کیا جا سکے گا۔

خالی عہدوں کا مسئلہ بھی اہم

ٹریبونلز کے نظام میں خالی عہدے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ چیئرمین یا ارکان کی نشستیں خالی رہنے سے مقدمات کی سماعت متاثر ہوتی ہے اور زیر التوا معاملات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

نئے کمیشن کی صورت میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ تقرری کے لیے مستقل ادارہ ہونے کی وجہ سے خالی عہدوں کو پُر کرنے کا عمل زیادہ منظم ہو سکے گا۔

تاہم اس کا عملی فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب کمیشن کو مناسب اختیارات، ضروری وسائل اور واضح ذمہ داریاں دی جائیں گی۔

حکومت کے سامنے اصل چیلنج کیا ہوگا؟

نئے قانون کے سامنے آنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ مجوزہ کمیشن کو کتنی خود مختاری دی جاتی ہے۔ صرف نیا ادارہ قائم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کی ساخت ایسی ہونی چاہیے جس سے ٹریبونلز کی آزادی اور غیر جانب داری پر اعتماد قائم ہو۔

یہ بھی اہم ہوگا کہ چیئرمین اور ارکان کے انتخاب کا عمل کس طرح مکمل کیا جائے گا، امیدواروں کی اہلیت کیا ہوگی اور مختلف ٹریبونلز میں خالی عہدوں کو کتنے وقت میں پُر کرنے کا نظام بنایا جائے گا۔

اسی طرح مالی اور انتظامی امور میں کمیشن کے اختیارات بھی اس کی کارکردگی کا تعین کریں گے۔

لوک سبھا میں بحث کے بعد واضح ہوگی تصویر

مجوزہ بل لوک سبھا میں پیش ہونے کے بعد اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث ہوگی۔ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے تجاویز اور ترامیم بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

حتمی قانون بننے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ نیشنل ٹریبونلز کمیشن کو عملی طور پر کون کون سے اختیارات حاصل ہوں گے اور مختلف ٹریبونلز میں تقرری کا موجودہ نظام کس حد تک تبدیل ہوگا۔

اگر نیا انتظام عدالتی آزادی، شفاف تقرری، بروقت تقرری اور بہتر انتظامی کارکردگی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو ملک کے ٹریبونل نظام میں یہ ایک اہم اصلاح ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Supreme Court News: ٹریبونلز کے نظام میں اصلاحات پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، مستقل کمیشن کی ضرورت پر زور

Delhi News: ٹریبونلز میں خالی عہدے بنے چیلنج، تقرری کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت

ٹریبونلز کی آزادی اور شفافیت ہی اصلاحات کی اصل کامیابی ہوگی

ٹریبونلز کا مقصد مخصوص نوعیت کے مقدمات کو ماہر اور نسبتاً تیز رفتار طریقے سے نمٹانا ہے۔ لیکن اگر ان اداروں میں تقرری ہی وقت پر نہ ہو یا عہدے طویل عرصے تک خالی رہیں تو مقدمات کے فوری فیصلے کا مقصد متاثر ہو جاتا ہے۔

نیشنل ٹریبونلز کمیشن کا تصور اسی مسئلے کے مستقل حل کی سمت ایک قدم ہو سکتا ہے۔ اگر تقرری کا عمل شفاف ہو اور اہل افراد کا انتخاب واضح معیار کے تحت کیا جائے تو ٹریبونلز پر عوام اور فریقین کا اعتماد مضبوط ہوگا۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کمیشن کو محض ایک انتظامی ادارہ نہ بنایا جائے۔ اس کی ساخت اور اختیارات میں عدالتی آزادی کا مکمل خیال رکھا جانا چاہیے۔ حکومت اور انتظامیہ کا کردار ضروری حد تک ہو، لیکن ٹریبونلز کی فیصلہ سازی پر اس کا غیر ضروری اثر نہ پڑے۔

نئے قانون کی اصل کامیابی اسی وقت سمجھی جائے گی جب خالی عہدے جلد پُر ہوں، تقرری کا عمل شفاف ہو، مقدمات کے فیصلے وقت پر ہوں اور فریقین کو غیر جانب دارانہ انصاف ملے۔

اگر یہ مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں تو مجوزہ نیشنل ٹریبونلز کمیشن ہندوستان کے ٹریبونل نظام میں ایک اہم اور دیرپا اصلاح ثابت ہو سکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *