:
Breaking News

Politics News: بی جے پی میں بڑی تنظیمی تبدیلی، نیتن نبیّن کی نئی ٹیم میں سمِرتی ایرانی اور رام مادھو کو اہم ذمہ داری

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | بی جے پی صدر نیتن نبیّن نے قومی عہدیداروں کی نئی ٹیم کا اعلان کردیا۔ سمِرتی ایرانی کو جنرل سکریٹری اور اترپردیش کا انچارج، جبکہ رام مادھو کو قومی نائب صدر بنایا گیا ہے۔

نئی دہلی، 17 اگست۔ بی جے پی نے تنظیم میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صدر نیتن نبیّن کی نئی قومی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری فہرست میں تجربہ کار رہنماؤں کے ساتھ کئی نئے چہروں کو بھی اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر سمِرتی ایرانی کی تنظیم میں واپسی اس اعلان کی سب سے نمایاں پیش رفتوں میں شمار کی جارہی ہے، جبکہ رام مادھو کو بھی قومی سطح پر اہم عہدہ دیا گیا ہے۔

بی جے پی نے مجموعی طور پر 13 قومی نائب صدور، 8 قومی جنرل سکریٹری اور 16 قومی سکریٹری مقرر کیے ہیں۔ ان تقرریوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ نئی ٹیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کو آئندہ ریاستی انتخابات کے لیے اپنی تنظیمی مشینری مضبوط کرنی ہے۔

سمِرتی ایرانی کی تنظیم میں واپسی

سابق مرکزی وزیر سمِرتی ایرانی کو قومی جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے اور انہیں اترپردیش کا انچارج بھی بنایا گیا ہے۔ اترپردیش کی سیاست میں ایرانی کی واپسی کو خاص اہمیت دی جارہی ہے، کیونکہ ریاست میں آئندہ انتخابی مقابلہ بی جے پی کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔

سمِرتی ایرانی امیٹھی سے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی کو شکست دے کر قومی سیاست میں نمایاں ہوئی تھیں۔ تاہم 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں امیٹھی سے شکست کے بعد ان کا فعال تنظیمی کردار محدود ہوگیا تھا۔ اب نیتن نبیّن کی ٹیم میں انہیں دوبارہ مرکزی ذمہ داری ملنے سے پارٹی میں ان کی سیاسی اہمیت ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوئی ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ انہیں صرف قومی جنرل سکریٹری نہیں بنایا گیا بلکہ اترپردیش جیسے اہم انتخابی صوبے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

رام مادھو سمیت 13 قومی نائب صدر

نئی ٹیم میں سابق قومی جنرل سکریٹری رام مادھو کو قومی نائب صدر بنایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کو بھی یہی ذمہ داری دی گئی ہے۔

قومی نائب صدور کی فہرست میں تیرتھ سنگھ راوت، بیجینت جے پانڈا، ڈی پرندیشوری، ریکھا ورما، ورشابین نریندر بھائی دوشی، ڈاکٹر بھارتی پروین پوار، سردار منپریت سنگھ بادل، لال سنگھ آریہ، پروفیسر ایم ناگراجا، پروفیسر طارق منصور اور مدھوچندرا کار کے نام بھی شامل ہیں۔

اس فہرست میں خواتین کو بھی نمایاں نمائندگی ملی ہے۔ 13 نائب صدور میں 6 خواتین شامل ہیں۔ اس طرح پارٹی کی اعلیٰ تنظیمی سطح پر خواتین کی موجودگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

8 قومی جنرل سکریٹری کون بنے؟

نیتن نبیّن کی نئی ٹیم میں آٹھ رہنماؤں کو قومی جنرل سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان میں ونود تاوڑے، سنیل بنسل، بپلَب کمار دیب، سمِرتی ایرانی، ڈاکٹر ستیش پونیا، گجیندر پٹیل، ہریش دویدی اور سنجے بھاٹیہ شامل ہیں۔

تریپورہ کے سابق وزیر اعلیٰ بپلَب کمار دیب کو قومی سطح پر اہم تنظیمی ذمہ داری دینا بھی اس فہرست کی نمایاں بات ہے۔ اسی طرح اترپردیش سے ہریش دویدی اور سمِرتی ایرانی کو جنرل سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

تنظیمی ڈھانچے میں بی ایل سنتوش برقرار

بی جے پی کے تنظیمی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بی ایل سنتوش قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

ان کے ساتھ شِو پرکاش اور سودان سنگھ کو قومی جوائنٹ جنرل سکریٹری (تنظیم) کی ذمہ داری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بی جے پی میں تنظیمی عہدوں کی اہمیت خاص طور پر اس لیے زیادہ ہے کیونکہ پارٹی کے اندر زمینی تنظیم، ریاستی اکائیوں اور انتخابی تیاریوں کے درمیان رابطے میں ان عہدوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔

16 قومی سکریٹریوں کی بھی تقرری

پارٹی نے 16 قومی سکریٹری بھی مقرر کیے ہیں۔ نئی فہرست میں کویتا پاٹیدار، کے سورندرن، ڈاکٹر بھولا سنگھ، ڈاکٹر پردیپ ورما، جگدیش ایشور بھائی پٹیل، ڈاکٹر سندیپ پاٹھک، فانگنون کونیاک، سنگیتا یادو، انیل اینٹنی، ڈاکٹر ایم وینکٹیشن، منوج تگّا، سدھارتھ شمبھو، ڈاکٹر سوا دیش سنگھ، مرِگانکا دیو برمن، روہن گپتا اور جے پرکاش شامل ہیں۔

ان میں سابق عام آدمی پارٹی رہنما سندیپ پاٹھک کے ساتھ انیل اینٹنی اور روہن گپتا جیسے نام بھی شامل ہیں، جس سے پارٹی کی تنظیم میں مختلف سیاسی اور علاقائی پس منظر رکھنے والے رہنماؤں کی موجودگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

پیوش گوئل کو خزانچی کی ذمہ داری

مرکزی وزیر پیوش گوئل کو بی جے پی کا قومی خزانچی مقرر کیا گیا ہے۔ راجیش منگل کو قومی جوائنٹ خزانچی بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ترون چُگ کو مرکزی دفتر کا انچارج اور مہندر پانڈے کو مرکزی دفتر کا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے سمبت پاترا کو کوآرڈینیٹر اور راجیو ببر کو جوائنٹ کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

مختلف مورچوں کی کمان بھی بدلی

بی جے پی نے اپنی مختلف ذیلی تنظیموں اور مورچوں کے لیے بھی نئے سربراہ مقرر کیے ہیں۔ ڈاکٹر ہیمنت جوشی کو یوا مورچہ، روپ کماری چودھری کو مہیلا مورچہ، امرپال موریہ کو او بی سی مورچہ اور بنسی لال گجر کو کسان مورچہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اسی طرح شیوِش کمار رام کو ایس سی مورچہ، ڈاکٹر منّا لال راوت کو ایس ٹی مورچہ اور کنور باسط علی کو اقلیتی مورچہ کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔

آئندہ انتخابات پر نظر

بی جے پی کی نئی ٹیم کا اعلان محض تنظیمی تبدیلی نہیں سمجھا جارہا ہے۔ پارٹی نے ایسے وقت میں یہ ڈھانچہ تیار کیا ہے جب کئی ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہونے والی ہیں۔ نئی ٹیم میں تجربہ کار رہنماؤں، خواتین، مختلف علاقوں اور مختلف سماجی پس منظر رکھنے والے چہروں کو جگہ دینے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔

اترپردیش کے لیے سمِرتی ایرانی کو ذمہ داری ملنا خاص طور پر اہم ہے۔ پارٹی کے لیے ریاست کی تنظیم کو مضبوط رکھنا قومی سیاست میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح رام مادھو جیسے تجربہ کار رہنما کو قومی نائب صدر بنائے جانے سے تنظیم میں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا اشارہ ملتا ہے۔

نیتن نبیّن کی صدارت میں یہ پہلی بڑی قومی ٹیم ہے۔ اس لیے اس فہرست کو ان کے تنظیمی انداز اور آئندہ سیاسی ترجیحات کی پہلی بڑی جھلک بھی قرار دیا جارہا ہے۔ نئی ٹیم میں جہاں پرانے اور تجربہ کار چہروں پر اعتماد برقرار رکھا گیا ہے، وہیں نئے رہنماؤں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دیا گیا ہے۔

اہم نام ایک نظر میں

قومی جنرل سکریٹری

ونود تاوڑے

سنیل بنسل

بپلَب کمار دیب

سمِرتی ایرانی

ڈاکٹر ستیش پونیا

گجیندر پٹیل

ہریش دویدی

سنجے بھاٹیہ

قومی نائب صدر

وسندھرا راجے سندھیا

تیرتھ سنگھ راوت

رام مادھو

بیجینت جے پانڈا

ڈی پرندیشوری

ریکھا ورما

ورشابین نریندر بھائی دوشی

ڈاکٹر بھارتی پروین پوار

سردار منپریت سنگھ بادل

لال سنگھ آریہ

پروفیسر ایم ناگراجا

پروفیسر طارق منصور

ڈاکٹر مدھوچندرا کار

قومی سکریٹری

کویتا پاٹیدار، کے سورندرن، ڈاکٹر بھولا سنگھ، ڈاکٹر پردیپ ورما، جگدیش ایشور بھائی پٹیل، ڈاکٹر سندیپ پاٹھک، فانگنون کونیاک، سنگیتا یادو، انیل اینٹنی، ڈاکٹر ایم وینکٹیشن، منوج تگّا، سدھارتھ شمبھو، ڈاکٹر سوا دیش سنگھ، مرِگانکا دیو برمن، روہن گپتا اور جے پرکاش۔

بی جے پی کی نئی ٹیم کا سیاسی پیغام

نیتن نبیّن کی نئی ٹیم سے ایک بات واضح ہے کہ بی جے پی نے تنظیم میں تجربے اور نئی توانائی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سمِرتی ایرانی، وسندھرا راجے اور رام مادھو جیسے تجربہ کار چہروں کو دوبارہ اہم ذمہ داری ملنا پارٹی کے پرانے تجربے پر اعتماد کی علامت ہے۔

دوسری طرف قومی سکریٹریوں اور مختلف مورچوں میں نئے ناموں کو جگہ دے کر تنظیم میں نئی نسل کے لیے بھی راستہ کھولا گیا ہے۔ خاص طور پر خواتین کو مختلف سطحوں پر ذمہ داری دینا بھی اس ٹیم کی نمایاں خصوصیت ہے۔

اب اصل امتحان اس ٹیم کا زمینی سطح پر ہوگا۔ آنے والے انتخابات میں ریاستی تنظیموں کے ساتھ تال میل، کارکنوں کی متحرک کاری اور ووٹروں تک پارٹی کا پیغام پہنچانا نئی قومی ٹیم کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

بی جے پی صدر نیتن نبیّن نے سنبھالی قومی تنظیم کی کمان، پارٹی میں نئی نسل کو ملی بڑی ذمہ داری

اترپردیش بی جے پی میں بڑی تنظیمی تبدیلی، نیتن نبیّن نے نئی ٹیم کا کیا اعلان

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *