:
Breaking News

Indian Politics: راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن پر بڑا حملہ، ووٹ چوری کے الزامات پھر دہرائے

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Indian Politics | راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابی عمل پر سوال اٹھائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

24 ستمبر 2026 کو Desk News کے تحت سامنے آئے اس سیاسی معاملے میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات پر ایک بار پھر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے پہلے کے ’ووٹ چوری‘ سے متعلق الزامات کو دہرایا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے ثبوت کے ساتھ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے بعض فیصلوں اور طریقہ کار پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

یہ معاملہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد مزید زیر بحث آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے تقریباً 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض اقدامات پر 14 مرتبہ اعتراض درج کیا۔ رپورٹ میں ووٹر لسٹ میں نئے نام شامل کرنے، نام حذف کرنے اور ووٹر سے متعلق معلومات تک رسائی جیسے معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں اسی معاملے کو اپنی گفتگو کا مرکزی موضوع بنایا۔ انہوں نے فروری 2025 سے اب تک اپنی مختلف پریس کانفرنسوں اور پروگراموں کی ایک ٹائم لائن بھی پیش کی، جن میں انہوں نے انتخابی عمل اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کا مسئلہ اٹھانے کا دعویٰ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ جمہوری نظام کی بنیادی طاقت ہے اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ کے حق اور انتخابی عمل کی حفاظت کرے۔ راہل گاندھی کے مطابق اگر ووٹنگ کے عمل کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں تو اس کا اثر صرف کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے جمہوری نظام پر پڑتا ہے۔

کانگریس لیڈر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی براہ راست سوال اٹھائے۔ انہوں نے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ گیانیش کمار کو اس معاملے میں سرکاری گواہ بن کر حقائق سامنے رکھنے چاہئیں۔

پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور صنعت کار گوتم اڈانی سمیت سات افراد کی تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کے انتخابی نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ یہ ان کے سیاسی دعوے ہیں، جن پر متعلقہ فریقوں کا موقف بھی اہم ہے۔

بی جے پی کی جانب سے راہل گاندھی کے الزامات کا جواب سدھانشو ترویدی نے دیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے بیان کو سیاسی طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل اور حکومت کے خلاف کانگریس کے مؤقف پر تنقید کی۔ بی جے پی نے ماضی میں بھی انتخابی عمل سے متعلق کانگریس کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی گفتگو میں ’اینٹی انکمبنسی‘ یعنی موجودہ حکومت کے خلاف عوامی ناراضی کے رجحان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف ریاستوں میں حکومتیں انتخابات کے بعد تبدیل ہوتی رہی ہیں، لیکن حالیہ انتخابات میں انہیں اس رجحان میں تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مقبولیت کے عروج کے باوجود ان کی حکومت کو بھی بعد میں سیاسی مخالفت اور عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ موجودہ دور میں اسی طرح کی سیاسی تبدیلیاں کیوں کم دکھائی دیتی ہیں۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے اندرونی معاملات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اداروں پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات انہیں اندر سے مل رہی ہیں۔ تاہم ایسے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق اور متعلقہ اداروں کا مؤقف اس بحث میں اہم ہے۔

الیکشن کمیشن کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا تعلق بنیادی طور پر انتخابی فہرست، ووٹر رجسٹریشن، نام حذف کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت سے ہے۔ ان معاملات پر فیصلہ کن نتیجہ نکالنے کے لیے سرکاری ریکارڈ، کمیشن کی وضاحت اور دستیاب شواہد کا جائزہ ضروری ہے۔

یہ پورا معاملہ اب ملک کی سیاست میں انتخابی شفافیت، ووٹر لسٹ کی درستگی اور آئینی اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق ایک بڑی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے الزامات کو دوبارہ سامنے رکھتے ہوئے حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے، جبکہ بی جے پی نے ان کے دعووں کو سیاسی الزام قرار دیا ہے۔

ووٹ کی شفافیت اور جمہوری اعتماد

انتخابی نظام میں ووٹر لسٹ کی درستگی اور ووٹ ڈالنے کے حق کا تحفظ کسی بھی جمہوری نظام کے بنیادی پہلو ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، لیکن ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا حذف کرنے کے عمل میں واضح اصول، قابل جانچ ریکارڈ اور شفاف طریقہ کار عوامی اعتماد کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ موجودہ تنازع میں بھی اصل توجہ دعووں اور الزامات سے آگے بڑھ کر دستیاب دستاویزات اور ادارہ جاتی وضاحتوں پر ہونی چاہیے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *