:
Breaking News

National News: دہلی میں ایس آئی آر احتجاج پر پولیس کا سپریم کورٹ میں جواب، انٹرنیٹ بندش، ٹرینوں اور میٹرو پابندیوں کا دفاع

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف 10 اکتوبر کے احتجاج پر پولیس نے سپریم کورٹ میں اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔ جانیں حراست، انٹرنیٹ بندش، ٹرینوں کی منسوخی اور 45 میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں کی تفصیل۔

نئی دہلی: اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے خلاف 10 اکتوبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاج اور اس سے پہلے نافذ کیے گئے سخت حفاظتی اقدامات کا معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ دہلی پولیس نے عدالت میں اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور حساس سرکاری علاقوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔ دوسری جانب درخواست گزاروں نے مبینہ غیر قانونی حراست، پولیس کی زیادتیوں اور عوامی آمدورفت پر پابندیوں کو چیلنج کیا ہے۔


احتجاج میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سمیت مختلف گروپوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ احتجاج سے پہلے دہلی کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی، موبائل انٹرنیٹ عارضی طور پر بند کیا گیا اور میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔ ریلوے خدمات بھی متاثر ہوئیں اور کئی ٹرینیں منسوخ کی گئیں۔


پولیس نے سپریم کورٹ میں کیا کہا؟


دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں احتجاج کے دوران امن و امان کے سنگین خدشات موجود تھے۔ پولیس نے اپنے موقف میں 20 جولائی کے ایک سابقہ احتجاج اور 6 سے 8 اکتوبر کے درمیان ہونے والے مظاہروں کا بھی حوالہ دیا ہے۔


پولیس کے مطابق، سابقہ مظاہروں کے دوران کچھ افراد نے بیریکیڈ توڑنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملے جیسے واقعات میں حصہ لیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ان تجربات اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 اکتوبر سے پہلے حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے۔


تاہم، پولیس کے یہ بیانات اس کا مؤقف ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر تمام مظاہرین کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ معاملے میں عدالت کے سامنے پیش کیے گئے شواہد اور قانونی کارروائی کی اہمیت برقرار ہے۔


20 جولائی کے احتجاج میں تشدد کا دعویٰ


دہلی پولیس نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ 20 جولائی کے احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے اور بعض افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق، تقریباً 30 ہزار افراد کے مجمع میں تشدد ہوا اور 240 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔


پولیس نے یہ بھی الزام لگایا کہ مجمع میں ایسے افراد شامل تھے جن کے خلاف قتل، فساد، عصمت دری اور منشیات سے متعلق مقدمات درج تھے۔ پولیس نے اس واقعے کو شدید ہجوم کے تشدد سے تعبیر کیا۔


دوسری جانب، اس احتجاج سے متعلق پہلے بھی الزامات اور جوابی الزامات سامنے آئے تھے۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اس وقت پولیس پر مظاہرین، خصوصاً خواتین، کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا تھا۔ اس لیے واقعے کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔


صحافت کی آڑ میں لوگوں کو اکسانے کا الزام


پولیس نے 6 سے 8 اکتوبر کے درمیان ہونے والے احتجاج کے بارے میں دعویٰ کیا کہ بعض افراد نے فری لانس صحافت کی آڑ میں مظاہرین کو مشتعل کیا۔ پولیس کے مطابق، ان واقعات کے دوران اہلکاروں کے ساتھ دھکا مکی اور بدزبانی کی گئی، جس میں خواتین پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن سے زیادہ اہلکار زخمی ہوئے۔


یہ الزامات بھی پولیس کے حلف نامے میں بیان کیے گئے مؤقف کا حصہ ہیں۔ کسی صحافی یا مظاہرہ کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کے جواز کا تعین مخصوص شواہد اور قانونی عمل کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔


حراست میں لیے گئے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کیا ہوا؟


دہلی پولیس نے عدالت میں کہا کہ احتجاج کے مقام سے ہٹائے گئے سیاسی رہنماؤں کو عام لاک اپ میں نہیں رکھا گیا، بلکہ تھانے کے انچارج کے نجی کمروں میں بٹھایا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان رہنماؤں کو چائے، کافی، کھانا اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کی گئیں۔


پولیس کے مطابق، عام مظاہرین کو بھی جیل نہیں بھیجا گیا۔ پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیے گئے افراد کو عارضی حراستی مراکز میں تقریباً دو سے چھ گھنٹے رکھا گیا اور اس کے بعد چھوڑ دیا گیا۔


لیکن درخواست گزاروں نے حراست کے قانونی جواز اور پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ محض کسی شخص کو مختصر وقت کے لیے حراست میں رکھنا اس کارروائی کو خود بخود قانونی ثابت نہیں کرتا؛ اس کے لیے متعلقہ حکم، اختیار اور حالات کا جائزہ ضروری ہے۔


رائے سینا ہل کے قریب موبائل انٹرنیٹ کیوں بند ہوا؟


مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری نے تصدیق کی کہ رائے سینا ہل کے چار کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ 24 گھنٹے کے لیے بند کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ بندش 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک نافذ رہی۔


حکومت نے اس اقدام کو عوامی نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق، موبائل انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا، لیکن براڈبینڈ اور وائی فائی نیٹ ورک کو جان بوجھ کر بند نہیں کیا گیا۔


درخواست گزاروں نے ان پابندیوں کی ضرورت اور قانونی بنیاد پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس لیے یہ معاملہ اب صرف سکیورٹی انتظامات تک محدود نہیں رہا بلکہ شہریوں کے رابطے، معلومات تک رسائی اور عوامی احتجاج کے حقوق سے بھی جڑ گیا ہے۔


کتنی ٹرینیں منسوخ ہوئیں؟


ریلوے حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، 9 اکتوبر کی شام 4 بجے سے 10 اکتوبر کے اختتام تک دہلی سے گزرنے یا دہلی میں سفر مکمل کرنے والی تقریباً 200 مسافر ٹرینیں منسوخ کی گئیں۔


اس کے علاوہ 10 اکتوبر کی صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان دہلی پہنچنے والی 41 میل اور ایکسپریس ٹرینیں بھی منسوخ کی گئیں۔ ان میں نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پہنچنے والی 29، حضرت نظام الدین اسٹیشن پہنچنے والی 9 اور تلک برج اسٹیشن پہنچنے والی 3 ٹرینیں شامل تھیں۔


ان فیصلوں سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت میں عوامی آمدورفت پر پابندیوں کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے گئے، کیونکہ احتجاج کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات کا اثر عام شہریوں کے سفر پر بھی پڑا۔


45 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند


دہلی پولیس نے تسلیم کیا کہ اس کی ہدایات پر 45 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ یہ پابندیاں 9 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک نافذ رہیں۔


پولیس کے مطابق، اس اقدام کا مقصد ہجوم کو حساس علاقوں کی جانب بڑھنے سے روکنا تھا۔ تاہم، دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے سپریم کورٹ میں واضح کیا کہ میٹرو ٹرینوں کی مجموعی سروس بند نہیں کی گئی تھی۔ اس کے مطابق، 303 اسٹیشنوں میں سے 45 پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں تھیں، جبکہ باقی 258 اسٹیشن معمول کے مطابق قابل استعمال رہے۔


ڈی ایم آر سی نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ تمام مقررہ ٹرین سروسز چلائی گئیں۔ اس معاملے میں اصل تنازع مکمل میٹرو بندش کا نہیں، بلکہ مخصوص اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج کو محدود کرنے اور اس اقدام کی قانونی حیثیت کا ہے۔


کیا وکلا اور صحافیوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا؟


درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ بعض وکلا، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا یا اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکا گیا۔


دہلی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی پیشہ ور شخص کو اس کے کام سے روکا گیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے قریب صرف ان افراد کو ہٹایا گیا جو پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔


پولیس نے عدالت کے احاطے کی عزت اور وقار برقرار رکھنے کو بھی اپنے مؤقف کا حصہ بنایا۔ تاہم، اس سوال کا حتمی جواب کہ کسی مخصوص شخص کی حراست قانونی تھی یا نہیں، متعلقہ حقائق اور عدالتی جانچ پر منحصر ہوگا۔


کانگریس کے مارچ اور ٹریفک جام کا معاملہ


دہلی پولیس نے 6، 7 اور 8 اکتوبر کو کانگریس کے احتجاجی مارچ کے دوران وسطی دہلی میں شدید ٹریفک جام کا دعویٰ بھی کیا۔ پولیس کے مطابق، ان مظاہروں کے باعث بعض لوگوں کی ٹرینیں اور پروازیں چھوٹ گئیں۔


پولیس نے یہ الزام بھی لگایا کہ حراست میں لیے گئے کچھ افراد نے پولیس کی بسوں کے ٹائروں میں سوراخ کیے اور کھڑکیوں کے شیشے توڑے۔ پولیس نے ان واقعات کو تشدد قرار دیا ہے۔ ان دعوؤں کے بارے میں بھی متعلقہ شواہد اور انفرادی ذمہ داری کی جانچ اہم ہے۔


پابندی کے احکامات کہاں نافذ تھے؟


پولیس نے کہا کہ بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت مختلف تھانوں کی حدود میں پابندی کے احکامات نافذ کیے گئے تھے۔ اس کے مطابق، کارروائی صرف جنتر منتر کے علاقے تک محدود نہیں تھی۔


تاہم، درخواست گزاروں نے اس پہلو پر سوال اٹھایا کہ پولیس نے تمام متعلقہ احکامات عدالت کے ریکارڈ پر پیش نہیں کیے اور یہ بھی مکمل طور پر واضح نہیں کیا کہ کن تھانوں نے ایسے احکامات جاری کیے تھے۔


یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ پابندیوں اور حراست کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ حکم کس اتھارٹی نے جاری کیا، اس کی حدود کیا تھیں اور وہ کن افراد یا علاقوں پر لاگو تھا۔


سپریم کورٹ میں معاملہ کیوں اہم ہے؟


ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کے بعد حراست، انٹرنیٹ بندش، ٹرینوں کی منسوخی اور میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں سے متعلق کئی سوالات عدالت تک پہنچے ہیں۔ درخواست گزار ان اقدامات کو غیر قانونی قرار دینے اور مبینہ زیادتیوں کی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ پولیس نے انہیں امن و امان کے خدشات کے پیش نظر ضروری قرار دیا ہے۔


اس معاملے میں ایک طرف حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ حساس علاقوں میں امن برقرار رکھا جائے، تو دوسری طرف شہریوں کے پرامن احتجاج، نقل و حرکت، معلومات تک رسائی اور قانونی تحفظ کے حقوق بھی اہم ہیں۔


اب توجہ اس بات پر ہے کہ سپریم کورٹ ان پابندیوں کے قانونی جواز، پولیس کے اختیارات اور شہری حقوق کے درمیان توازن کا جائزہ کس طرح لیتی ہے۔ پولیس کے دعووں اور درخواست گزاروں کے الزامات کے بارے میں حتمی نتیجہ عدالت کی جانچ اور متعلقہ شواہد کی بنیاد پر ہی سامنے آئے گا۔


ڈسکلیمر: اس رپورٹ میں پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے الزامات کو پولیس کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انہیں کسی عدالت کے حتمی فیصلے یا تمام مظاہرین کے خلاف ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *