:
Breaking News

India News: دہلی میں ریحان وڈرا کی نمائش سے احتجاجی تصاویر ہٹانے کا تنازع، کانگریس نے سنسرشپ پر اٹھائے سوال

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی کے بیکانیر ہاؤس میں ریحان وڈرا کی فوٹو نمائش سے احتجاجی تصاویر ہٹانے کے معاملے پر تنازع، پرینکا گاندھی اور کانگریس نے اظہارِ رائے کی آزادی کا سوال اٹھایا۔

نئی دہلی: کانگریس رہنما پرینکا گاندھی وڈرا کے بیٹے اور فوٹوگرافر ریحان آر وڈرا کی دہلی میں جاری فوٹو نمائش تنازع کا شکار ہوگئی ہے۔ ریحان کا الزام ہے کہ بیکانیر ہاؤس انتظامیہ نے ان کی نمائش سے حالیہ نوجوانوں کے احتجاج سے متعلق بڑی تعداد میں تصاویر ہٹانے کے لیے کہا۔ اس معاملے پر کانگریس نے فنکارانہ آزادی اور اظہارِ رائے کے حق کو لے کر سوالات اٹھائے ہیں۔ <Cite refs={["turn754407search0","turn754407search4"]}/>


ریحان وڈرا کی نمائش کا عنوان ’نو آئیڈیا اِز فائنل‘ ہے۔ ان کے مطابق نمائش میں فطرت اور جنگلی حیات کی تصاویر کے ساتھ دہلی میں نوجوانوں کی تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کو دکھانے والی تصاویر بھی شامل تھیں۔ ریحان کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کا مقصد واقعات کو کیمرے میں محفوظ کرنا تھا، نہ کہ کسی کے خلاف اشتعال انگیزی کرنا۔ <Cite refs={["turn754407search1","turn754407search2"]}/>


نمائش سے تصاویر ہٹانے پر کیا کہا ریحان نے؟


ریحان کے بیان کے مطابق، نمائش شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے انہیں بتایا گیا کہ اگر مقررہ وقت تک اعتراض والی تصاویر نہیں ہٹائی گئیں تو نمائش منسوخ کی جا سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے احتجاجی تصاویر کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے ان پر اعتراض کیا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق، نمائش کے لیے پہلے 105 تصاویر رکھی جانی تھیں، جن میں سے 70 سے زیادہ تصاویر ہٹا دی گئیں۔ اس کے بعد نمائش میں موجود تصاویر کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوگئی۔ ریحان نے یہ بھی کہا کہ ان سے قومی پرچم ترنگے کی تصاویر ہٹانے کو کہا گیا تھا، جس پر انہوں نے اعتراض کیا۔ <Cite refs={["turn754407search0","turn754407search4"]}/>


پرینکا گاندھی نے بیٹے کی حمایت کی


اس تنازع کے سامنے آنے کے بعد پرینکا گاندھی وڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیٹے کی حمایت کی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ جب طاقتور لوگ دوسروں کے اظہار سے خوف محسوس کرنے لگتے ہیں تو وہ اس طاقت کو پہلے ہی کھونے لگتے ہیں جسے بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ریحان کے موقف پر فخر کا اظہار بھی کیا۔ <Cite refs={["turn754407search6","turn754407search7"]}/>


کانگریس نے سنسرشپ کا الزام لگایا


کانگریس رہنما پون کھیڑا نے اس واقعے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نمائش سے بڑی تعداد میں تصاویر ہٹانا فنکارانہ اظہار کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، تصاویر میں احتجاجی سرگرمیوں کو دستاویزی انداز میں پیش کیا گیا تھا، اس لیے انہیں ہٹانے کی وجہ واضح ہونی چاہیے۔


راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی اس کارروائی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بیکانیر ہاؤس راجستھان حکومت کے زیر انتظام ہے اور اس معاملے میں حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔ تاہم، تصاویر ہٹانے سے متعلق الزامات پر بیکانیر ہاؤس انتظامیہ کا باضابطہ موقف سامنے آنا بھی ضروری ہے۔ <Cite refs={["turn754407search0","turn754407search9"]}/>


مکمل تصاویر دوسری جگہ دکھانے کا ارادہ


ریحان وڈرا نے کہا ہے کہ وہ احتجاجی تصاویر کے مکمل مجموعے کو کسی دوسری جگہ نمائش کے لیے پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس واقعے نے فن، سیاست اور عوامی مقامات پر اظہارِ رائے کی آزادی کے درمیان تعلق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


فی الحال، اس معاملے میں ریحان کے الزامات اور کانگریس کے ردعمل کے ساتھ ساتھ متعلقہ انتظامیہ کا موقف بھی اہم ہوگا، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ تصاویر ہٹانے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا تھا۔ <Cite refs={["turn754407search0","turn754407search4"]}/>

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *