:
Breaking News

دہلی دھماکہ کیس میں نیا موڑ، پلوآمہ کے طارق سے جڑی آئی۔20 کار، تفتیش فریدآباد تک پہنچی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

نئی دہلی: 10 نومبر کو دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی ہنڈائی آئی۔20 کار جموں و کشمیر کے ضلع پلوآمہ کے رہائشی طارق کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ تفتیش کے دوران گاڑی کی چابی پر فریدآباد کی ایک آٹو کمپنی کا نام درج ملا، جس سے تحقیقاتی ٹیمیں سیدھی ہریانہ کے فریدآباد تک پہنچ گئیں۔فریدآباد کے سیکٹر 37 میں واقع اس کمپنی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتی ہے۔ دہلی پولیس اسپیشل سیل اور این آئی اے کی ٹیمیں اس وقت کمپنی کے ریکارڈ، دستاویزات اور گاڑی کے تمام ٹرانسفر پیپرز کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر یہ کار طارق کے قبضے میں کیسے پہنچی۔دھماکے کے بعد دہلی پولیس، اسپیشل سیل اور این ایس جی نے رات بھر مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا۔ پہاڑ گنج، دریا گنج، کنّاٹ پلیس اور قریبی علاقوں کے ہوٹلوں، لاجز اور گیسٹ ہاؤسز کی تلاشی لی گئی۔ پولیس نے پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران ہوٹلوں میں بکنگ کرنے والے تمام افراد کے رجسٹر چیک کیے اور متعدد سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کیں۔ چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے لیکن ابھی تک کسی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔دہلی پولیس نے اس کیس کو یو اے پی اے (Unlawful Activities Prevention Act) کے تحت درج کیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے گاڑی کی سروس ہسٹری، اونرشپ اور دھماکے میں استعمال شدہ دھماکہ خیز مواد کے ذرائع کا سراغ لگا رہے ہیں۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ سازش دہلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے روابط جموں و کشمیر اور ہریانہ تک پھیل سکتے ہیں۔مرکزی خفیہ ایجنسیاں اور مقامی پولیس مشترکہ طور پر کیس پر کام کر رہی ہیں۔ دہلی میں تمام اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ فوجداری اور فارنزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *