:
Breaking News

سمستی پور میں نورانی محفل کی جھلک: ابوذر نے حفظِ قرآن مکمل کر کے علاقے کا سر فخر سے بلند کر دیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

محمد عبیداللہ رحمٰنی، مدیرِ اعلیٰ

سمستی پور کے اکبرپور، ساری میں قائم دارالعلوم تجوید القرآن میں اتوار کا دن روح پرور اور تاریخ ساز مناظر کا گواہ بنا، جب علاقے کے ہونہار نوجوان عزیز محمد ابوذر بن مولانا شوکت مجاہری نے مکمل قرآنِ پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔

ابوذر کے دَدھیہال گاؤں—نِمی، تھانہ سنگھیا، ضلع سمستی پور— میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ننھیال، ددھیال اور سنگھیا پرکھنڈ سمیت پورے ضلع میں جشن کا سماں ہے۔ لوگ مبارکباد پیش کر رہے ہیں اور اس نونہال کی عظیم کامیابی پر ڈھیروں دعاؤں سے نواز رہے ہیں۔

“قرآن کا نور اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے” — ڈاکٹر شاہد

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شاہد نے فرمایا کہ حفظِ قرآن محض محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
“خوش نصیب وہ ہے جس کا دل اللہ کے کلام سے آباد ہو اور جس کی زندگی قرآن کے سائے میں گزرے۔”
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو دینی ماحول فراہم کریں، کیونکہ یہی آنے والی نسلوں کا اصل سرمایہ ہے۔

حفاظتِ قرآن کی قیامت خیز فضیلت کا ذکر

قاری راشد عرفانی نے فضائلِ حافظِ قرآن بیان کرتے ہوئے کہا:
“قیامت کے دن حافظ سے کہا جائے گا—پڑھتے جاؤ اور بلند ہوتے جاؤ، تمہاری منزل وہیں ختم ہوگی جہاں تمہاری آخری آیت ختم ہوگی۔”

مولانا نوشاد قاسمی نے کہا کہ حفظِ قرآن صرف یاد کرنا نہیں، بلکہ روح کو نور سے معمور کرنے کا عمل ہے۔

تلاوت، نعت اور آخری سبق کی روح پرور فضا

تقریب کا آغاز مولانا رستم تھکبی کی پرکیف تلاوت سے ہوا۔
بعد ازاں مولانا نظام الدین قاسمی نے نعتِ پاک پیش کی۔

روحانی فضا اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب محمد ابوذر نے اپنے استاذ قاری وسیم احمد کی موجودگی میں آخری سورت سنا کر حفظِ قرآن کا سفر مکمل کیا۔
محفل "ماشاءاللہ" اور دعا کی صداؤں سے گونج اٹھی، اور شرکاء نے پھول مالاؤں اور ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ اس کی حوصلہ افزائی کی۔

دعاؤں میں امن، ترقی اور علمی روشنی کی درخواست

اختتامی دعا قاری محمد شاہد نے کرائی، جس میں انہوں نے ابوذر کی دینی ترقی، روشن مستقبل اور علاقے میں امن و سکون کی دعا فرمائی۔

علماء و معززین کی نمایاں شرکت

تقریب میں علاقے کی کئی ممتاز شخصیات اور جید علماء شریک تھے، جن میں نمایاں نام یہ ہیں:
مولانا اسلم جاوید، قاری سناؤاللہ، قاری ارشد، قاری محمد شہباز، ماسٹر شاہد، قاری ما شاہد، مولانا تنویر، مولانا اسرافیل، مجاہری شفیع، احمد محمد وکیل، ڈاکٹر اظہار، محمد حیدر علی، محمد مکیّل، محمد شاہنو، نور الاسلام، محمد صدرال عبدالقادر، انجینئر محمد قاسد، محمد سرفراز، حافظ محمد شمیم، حافظ سعاد الدین، مولانا توصیف قاسمی، قاری شارق جعفر، صحافی تنویر عالم، سید منظر الجمیل، نعیم الدین آزاد، محمد افروز عالم، محمد شوکت علی اور دیگر معززین۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *