:
Breaking News

سمستی پور میں افسروں کا تکبر عروج پر—عوام کی آواز بےوقعت، فون اٹھانا بھی ان کے لیے بوجھ، خدمت کے دعوے صرف زبانی!

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

       محمد عالم,چیف ایڈیٹر
       (alamkikhabar.com)

سمستی پور—ضلع سمستی پور میں افسرشاہی کا غرور اور بےحسی اس حد تک بڑھتی جا رہی ہے کہ عوام کی فون کالیں اب ان افسروں کے لیے کسی اہمیت کی حامل نہیں رہیں۔ لوگ گھنٹوں اپنے مسائل بیان کرنے کے لیے فون کرتے رہتے ہیں، مگر جواب میں شاید ہی کسی افسر کی آواز سنائی دے۔ فون بجتے بجتے بند ہو جاتا ہے، لیکن افسروں کی طرف سے نہ کال اٹھائی جاتی ہے اور نہ ہی واپسی میں جواب دیا جاتا ہے۔ یہ رویّہ اب معمول بن چکا ہے اور اس سنگین بےدھیانی میں ضلع کے اعلیٰ عہدیداروں کی شمولیت کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک دفتر یا ایک محکمے تک محدود نہیں بلکہ پورے ضلع میں افسرشاہی عوام سے کٹ چکی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فون نہیں اٹھتے، اصل المیہ یہ ہے کہ افسروں کے دل سے عوام کی اہمیت ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ محض غیر ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کے ساتھ حق تلفی اور ان کے مسائل کی کھلی ناقدری ہے۔ عوام کا سوال آج ہر گلی کوچے میں گونج رہا ہے: “اگر فون اٹھانا بھی گوارا نہیں تو عوام کی خدمت کا حلف کیوں لیا تھا؟” افسروں کا یہ رویّہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ انتظامیہ کا ایک بڑا حصہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے منہ موڑ چکا ہے اور عوامی مسائل کے حل سے زیادہ اپنے عہدوں کے غرور میں رہتا ہے۔

عوام کی شکایات مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں سے لے کر شہری علاقوں تک ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے کہ افسروں کے فون ہمیشہ مصروف یا خاموش ملتے ہیں۔ لوگ کتنی ہی بار فون کریں، جواب وہی—لمبی رِنگ اور پھر مکمل خاموشی۔ کئی دفاتر میں تو یہ رویہ دیکھنے میں آیا ہے کہ افسر اپنی میز پر فون رکھے بیٹھے ہوتے ہیں مگر عوام کی کال سنتے ہی فون کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ عوام کا احساس یہ بنتا جا رہا ہے کہ شاید وہ اس ملک کے شہری نہیں بلکہ کسی بوجھ کی طرح افسروں پر لاد دیے گئے ہیں۔

اگر حکومت چاہتی ہے کہ انتظامیہ فعال ہو، تو سب سے پہلے اسے ایسے افسروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی جو عوامی شکایات سننے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر فوری نوٹس لے، ایسے افسروں کی جوابدہی طے کرے، فون نہ اٹھانے والوں کے خلاف سخت اصول بنائے جائیں اور ہر دفتر میں فون اٹینڈ کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ کیونکہ اگر عوام اپنی تکلیف بیان ہی نہ کر سکے، تو حکومت کے ترقیاتی وعدوں، اسکیموں اور اصلاحات کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے؟

حکومت چاہے کتنے ہی بڑے دعوے کرے، مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام کی آواز ان تک پہنچ ہی نہیں رہی۔ افسروں کی بےحسی نے انتظامیہ کو کمزور اور غیرمؤثر بنا دیا ہے۔ افسروں اور عوام کے درمیان جو رابطہ ہونا چاہیے تھا، وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ طنزیہ انداز میں سمستی پور کو “فون نہ سننے والے افسروں کا ضلع” کہنے لگے ہیں۔ عوام مشکلات میں گھری ہوئی ہے، امید کے ساتھ فون کرتی ہے، مگر جواب میں صرف رِنگ ٹون سنائی دیتی ہے—اور پھر ناامیدی کی گہری خاموشی لوٹتی ہے۔

جب تک افسر فون نہیں اٹھائیں گے، تب تک عوامی دربار صرف ایک ڈرامہ ہے، سنوائی ایک دکھاوا، اور حکومت کے دعوے محض کاغذی کاروائی۔ سمستی پور کی عوام اب صاف الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ افسروں کا غرور اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سخت کارروائی کرے اور عوامی شکایات کو سننے کا مؤثر نظام قائم کرے۔ اگر افسر عوام کی آواز نہیں سنیں گے تو ایسے انتظامی نظام کا فائدہ آخر کس کو ہے؟
سمستی پور کی سڑکوں، بستیوں اور محلّوں میں ایک ہی جملہ بار بار سنائی دے رہا ہے:
“افسروں کا غرور بہت ہوا—اب احتساب ضروری ہے!”

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *