:
Breaking News

عوام کی بات سننا اولین ترجیح: سمستی پور ایس پی نے براہِ راست ‘Alam Ki Khabar’ کے چیف ایڈیٹر محمد عالم سے کی بات

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سمستی پور۔ ضلع میں افسروں کی لاپرواہی اور فون نہ اُٹھانے والے اہلکاروں کے خلاف عوام کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ متعدد محکموں میں حالات اتنے خراب ہیں کہ لوگ ضروری کاموں کے لیے گھنٹوں فون کرتے رہتے ہیں، مگر افسران کال کا جواب نہیں دیتے۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ محض لاپرواہی نہیں بلکہ عوام کی آواز کو نظر انداز کرنے کی عادت بن چکی ہے۔

اسی پس منظر میں سمستی پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اروند پرتاپ سنگھ نے ایک مثال قائم کی۔
خبریں آنے کے بعد ایس پی صاحب نے خود ‘Alam Ki Khabar’ کے چیف ایڈیٹر محمد عالم سے براہِ راست فون پر رابطہ کیا اور پوری صورتحال کی سنجیدگی سے معلومات حاصل کیں۔

بات چیت کے دوران ایس پی اروند پرتاپ سنگھ نے کہا:
“میرے محکمہ میں کوئی شکایت ہو تو فوراً بتائیں۔ پولیس محکمہ میں فون اُٹھائے جاتے ہیں، بات سنی جاتی ہے اور کارروائی وقت پر ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ عوام کی آواز کبھی نظر انداز نہ ہو۔”

انہوں نے مزید کہا:
“اس مسئلے کو میں ضلعی افسر کے سامنے بھی رکھوں گا اور سول انتظامیہ میں بھی بہتری کرائی جائے گی۔”

ایس پی کی یہ رائے ظاہر کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے محکمہ بلکہ پورے ضلع میں جوابدہی اور اصلاحات کی ضرورت کو سنجیدگی سے سمجھتے ہیں۔

ضلع کی عوام بھی مان رہی ہے کہ ایس پی کے اقدام کے بعد پولیس محکمہ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ فون کا جواب دینے، کارروائی کی رفتار اور عوام سے براہِ راست رابطے میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
عوام کہہ رہی ہے:
“جب پولیس سپرنٹنڈنٹ خود فون اُٹھاتے ہیں اور عوام سے بات کرتے ہیں، تو باقی محکمے کیوں نہیں؟”

اب عوام کی خواہش ہے کہ ضلعی مجسٹریٹ روشن کُشوہا بھی اسی سرگرمی کا مظاہرہ کریں اور تمام انتظامی افسران کو سخت ہدایات دیں کہ عوام کی کالز کو ترجیح دی جائے۔ جو افسر فون تک نہ اُٹھائیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سمستی پور کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں شکایات یکساں ہیں کہ کئی افسران عوام کی بات سننے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں ایس پی اروند پرتاپ سنگھ کا فوری رابطہ عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔

عوام کی واضح آواز:
“افسر شاہی کا غرور بہت ہو چکا، اب جوابدہی چاہیے۔ اور جب ہمارے ایس پی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، تو باقی افسران بھی ذمہ داری نبھائیں۔”

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *