:
Breaking News

ٹاٹا سنز میں بڑی تبدیلی، این چندرشیکھرن 20 فروری 2027 کو چیئرمین کا عہدہ چھوڑیں گے

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Business News | India News | Tata News | ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرشیکھرن 20 فروری 2027 کو موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ تقرری کی پیشکش نہیں کریں گے۔

نئی دہلی، 12 اگست۔ عالم کی خبر: ٹاٹا گروپ کی مرکزی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز میں قیادت کو لے کر کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال اب ایک بڑے فیصلے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرشیکھرن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ چیئرمین کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری پیش نہیں کریں گے۔ ان کی موجودہ مدت 20 فروری 2027 کو ختم ہورہی ہے۔

این چندرشیکھرن نے بورڈ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے نئے جانشین کے انتخاب کا عمل جلد شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ان کی دوبارہ تقرری کو لے کر ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا اور گروپ کے اندر بعض اہم امور پر اختلافات کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔

چندرشیکھرن نے ملازمین کو یہ پیغام بھی دیا کہ قیادت سے متعلق افواہوں اور قیاس آرائیوں پر زیادہ توجہ نہ دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گروپ کی طویل مدتی ترقی اور ادارہ جاتی استحکام سب سے زیادہ اہم ہے۔

تقریباً چار دہائیوں تک ٹاٹا گروپ سے وابستگی

این چندرشیکھرن ٹاٹا گروپ کے ساتھ تقریباً 40 سال سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز یعنی ٹی سی ایس میں اپنے کیریئر کے دوران چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے بعد 2017 میں انہیں ٹاٹا سنز کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

ان کی تقرری ٹاٹا گروپ کی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی سمجھی گئی تھی، کیونکہ وہ ٹاٹا خاندان سے باہر کے پہلے چیئرمین اور پہلے غیر پارسی چیئرمین تھے۔

ان کے دور میں ٹاٹا گروپ نے کئی نئے شعبوں میں سرمایہ کاری اور توسیع کی۔ ایئر انڈیا کی خریداری، الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر سے متعلق منصوبے، ڈیجیٹل کاروبار اور دیگر نئے شعبوں میں گروپ کی سرگرمیاں تیز ہوئیں۔

اب ان کے جانشین کا انتخاب ٹاٹا گروپ کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ ہوگا۔

دوبارہ تقرری کا معاملہ کہاں پھنسا؟

چندرشیکھرن کی دوبارہ تقرری کو لے کر ستمبر 2025 سے ہی گروپ کے اندر بحث جاری تھی۔ ٹاٹا ٹرسٹس کے دو اہم ٹرسٹس کی جانب سے ان کے مزید پانچ سالہ دور کی سفارش کی گئی تھی۔ ٹاٹا سنز کی نامینیشن اینڈ ریمونریشن کمیٹی اور بورڈ کی سطح پر بھی اس معاملے کو آگے بڑھایا گیا۔

لیکن فروری 2026 میں ہونے والی بورڈ میٹنگ میں اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ٹاٹا گروپ کے گورننس نظام میں چیئرمین کی تقرری کے لیے اتفاق رائے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ نتیجتاً دوبارہ تقرری کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔

اس کے بعد کئی ماہ تک اختلافات ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن کوئی حتمی حل سامنے نہیں آسکا۔ بالآخر چندرشیکھرن نے خود اگلی مدت کے لیے دوڑ سے باہر ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

نول ٹاٹا کی بڑھتی ہوئی اہمیت

رَتن ٹاٹا کے انتقال کے بعد 2024 میں نول ٹاٹا کو ٹاٹا ٹرسٹس کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ ٹاٹا سنز میں ٹاٹا ٹرسٹس کی تقریباً دو تہائی حصہ داری ہے۔ اس لیے ٹرسٹس کی رائے کمپنی کے اہم فیصلوں میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

چندرشیکھرن کی مدت میں توسیع کے معاملے کے علاوہ بھی ٹاٹا گروپ کے اندر کئی بڑے موضوعات پر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں ایئر انڈیا کی کارکردگی، نئے کاروباروں کی رفتار، مستقبل کی حکمت عملی، بورڈ میں نمائندگی اور ٹاٹا سنز کی ممکنہ لسٹنگ جیسے معاملات شامل ہیں۔

یہ تمام مسائل صرف ایک عہدے کی تقرری تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق ٹاٹا گروپ کی مستقبل کی ساخت اور حکمت عملی سے بھی ہے۔

ٹاٹا سنز کی لسٹنگ بھی بڑا مسئلہ

ٹاٹا سنز کی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کا معاملہ بھی کافی عرصے سے بحث میں ہے۔ ٹاٹا سنز میں شاپورجی پلونجی گروپ کی تقریباً 18 فیصد حصہ داری ہے۔ یہ گروپ اپنی سرمایہ کاری سے باہر نکلنے کا راستہ چاہتا ہے۔

لسٹنگ کی صورت میں حصص کی فروخت کا راستہ آسان ہوسکتا ہے، لیکن ٹاٹا سنز کو نجی کمپنی کے طور پر برقرار رکھنے یا اسے لسٹ کرنے کے معاملے پر گروپ کے اندر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

ریزرو بینک آف انڈیا کے ضوابط بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاٹا سنز کی آئندہ ساخت اور ملکیت سے متعلق فیصلے کو بھی آنے والے چیئرمین کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھا جارہا ہے۔

اب نئے چیئرمین کی تلاش ہوگی

این چندرشیکھرن 20 فروری 2027 تک ٹاٹا سنز کے چیئرمین رہیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ بورڈ کے پاس نئے چیئرمین کے انتخاب اور اقتدار کی منتقلی کے لیے کئی ماہ کا وقت موجود ہے۔

چندرشیکھرن نے بھی بورڈ سے کہا ہے کہ ان کے جانشین کا انتخاب وقت رہتے کرلیا جائے، تاکہ قیادت کی تبدیلی کے دوران گروپ کے بڑے منصوبوں اور کاروباری فیصلوں پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

نئے چیئرمین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ٹاٹا ٹرسٹس، ٹاٹا سنز بورڈ اور گروپ کی مختلف کمپنیوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا ہوگا۔

شیئر بازار پر بھی اثر

چندرشیکھرن کے فیصلے کی خبر سامنے آنے کے بعد ٹاٹا گروپ کی کئی لسٹڈ کمپنیوں کے حصص میں بدھ کو گراوٹ دیکھی گئی۔ ٹی سی ایس، ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس، ٹاٹا ایلیکسی، ٹاٹا موٹرز پیسنجر وہیکلز اور ٹاٹا اسٹیل سمیت کئی کمپنیوں کے شیئر دباؤ میں رہے۔

ٹی سی ایس کے شیئر میں سب سے نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں اس ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کار نئے چیئرمین کی تقرری اور ٹاٹا گروپ کی مستقبل کی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ٹاٹا گروپ کے لیے فیصلہ کن مرحلہ

ٹاٹا گروپ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں نئے چیئرمین کا انتخاب صرف انتظامی تقرری نہیں ہوگا بلکہ گروپ کی مستقبل کی سمت بھی اس سے وابستہ ہوگی۔

ایئر انڈیا، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹر، آٹو موبائل، ڈیجیٹل کاروبار اور دیگر شعبوں میں ٹاٹا گروپ کی بڑی سرمایہ کاری جاری ہے۔ ایسے وقت میں قیادت کی تبدیلی کے دوران پالیسی میں تسلسل برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہوگا۔

نئے چیئرمین کو کاروباری توسیع کے ساتھ ساتھ گروپ کے اندر گورننس، ٹرسٹس کے کردار، بورڈ کی نمائندگی اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

این چندرشیکھرن کا فیصلہ ٹاٹا گروپ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ ٹاٹا سنز کی قیادت کس کے ہاتھ میں جاتی ہے اور نیا چیئرمین گروپ کو کس سمت لے کر جاتا ہے۔

روایت اور جدید کاروبار کے درمیان ٹاٹا گروپ کی آزمائش

ٹاٹا گروپ کی سب سے بڑی طاقت اس کی ادارہ جاتی شناخت اور عوامی اعتماد رہا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں گروپ تیزی سے نئے کاروباری شعبوں میں داخل ہورہا ہے۔ اس لیے مستقبل کے چیئرمین کے سامنے روایت کو برقرار رکھنے کے ساتھ نئی معیشت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا بھی بڑا چیلنج ہوگا۔

چندرشیکھرن کے دور میں ٹاٹا گروپ نے کئی بڑے فیصلے کیے۔ اب ان کے جانشین کو نہ صرف ان منصوبوں کو آگے بڑھانا ہوگا بلکہ گروپ کے اندر موجود اختلافات کو بھی کم کرنا ہوگا۔

20 فروری 2027 چندرشیکھرن کے موجودہ دور کی آخری تاریخ ہوگی، لیکن اسی دن سے ٹاٹا گروپ کے لیے ایک نئے قیادت کے دور کی بنیاد بھی مضبوط ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

• ٹاٹا گروپ میں قیادت کو لے کر بڑھتی غیر یقینی صورتحال

• نول ٹاٹا ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین مقرر، رتن ٹاٹا کے بعد بڑی ذمہ داری

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *