:
Breaking News

India News: سی جے پی رہنما سورَو داس اور آشوتوش رانکا کرائم برانچ کے سامنے پیش، جنتر منتر کیس میں تفتیش جاری

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | India News: جنتر منتر احتجاج معاملے میں سی جے پی رہنماؤں سورَو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے سے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی پوچھ گچھ، جانیے پورا معاملہ۔

23 اکتوبر 2026 | Alam Ki Khabar: نئی دہلی: جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے متعلق معاملے میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنما سورَو داس اور آشوتوش رانکا جمعہ کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے سامنے پیش ہوئے۔ پارٹی کارکن اجنکیا شندے بھی تفتیش میں شامل ہوئے۔ تینوں کو اس سے پہلے 22 اکتوبر کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہ مقررہ وقت پر پیش نہیں ہوئے تھے اور انہوں نے تفتیش میں شامل ہونے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔


پہلے نوٹس پر پیش نہیں ہوئے تھے تینوں رہنما


دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے سورَو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے کو راجوری گارڈن واقع دفتر میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ معاملہ 13 اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے متعلق ہے۔ پہلے دن پیش نہ ہونے کے بعد تینوں کے تفتیش میں شامل ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔


تفتیشی ایجنسی اس معاملے میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مبینہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔


کیا ہے جنتر منتر احتجاج کا پورا معاملہ؟


سی جے پی کارکنوں نے 13 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کیا تھا۔ احتجاج کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پارٹی کے احتجاج کا تعلق ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق الزامات سے بھی تھا۔


پولیس کا الزام ہے کہ مقررہ احتجاجی مقام کی اجازت منسوخ ہونے کے بعد کچھ کارکن نجی احاطے کے راستے رکاوٹوں والے علاقے میں داخل ہوئے۔ پولیس نے اسے مقررہ شرائط اور عوامی نظم و ضبط سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان الزامات کی تفتیش جاری ہے۔


اس واقعے کے بعد دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بعد میں دونوں مقدمات کی تفتیش دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی۔


عدالتی حراست کے بعد رہا ہوئے تھے دونوں رہنما


سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو اس معاملے میں حراست میں لیے جانے کے بعد عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔ 21 اکتوبر کو خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ ریتو راج نے دونوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے دونوں کے 50،000 روپے فی کس کے ذاتی اور ضمانتی بانڈ قبول کیے۔


رہائی کے وقت دونوں رہنماؤں نے تحریری یقین دہانی کرائی کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں گے اور جنتر منتر کو قانون کے مطابق دوبارہ احتجاجی مقام قرار دیے جانے تک وہاں احتجاج کی اپیل نہیں کریں گے۔ عدالت نے انہیں ہر سماعت میں حاضر رہنے اور بانڈ کی شرائط پر عمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔


اجنکیا شندے کا کردار بھی تفتیش کے دائرے میں


اس معاملے میں سی جے پی کارکن اجنکیا شندے کو بھی پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔ پولیس تینوں سے احتجاج سے متعلق واقعات، مبینہ طور پر بیریکیڈ عبور کرنے اور حکام کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔


فی الحال تفتیش جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر حتمی نتیجہ تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔


یہ بھی پڑھیں: [Alam Ki Khabar کی کسی شائع شدہ خبر کا لنک یہاں شامل کریں]


Alam Ki Khabar

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *