:
Breaking News

“اقتدار کی بساط الٹ دی گئی: شیخ حسینہ کے خلاف سازش، رشتہ دار یا عالمی طاقتوں کا کھیل؟”

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

ڈھاکا کی سیاست ان دنوں بھونچال میں ہے۔ ایک نئی کتاب نے انکشافات کا طوفان کھڑا کر دیا ہے جنہوں نے نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ واشنگٹن اور دہلی کے ایوانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کتاب کے مطابق، سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے پیچھے امریکی خفیہ ادارہ CIA اور ان کے اپنے رشتہ دار جنرل واکرالزمان کا خفیہ اتحاد تھا۔

کتاب “ان شاءاللہ بنگلہ دیش: ایک ناتمام انقلاب کی کہانی” میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حسینہ کا تختہ الٹنا کسی عام سیاسی کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکہ کی منصوبہ بندی کے تحت ایک مکمل فوجی آپریشن تھا۔ سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کمال کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ “ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ واکر امریکی جال میں پھنس چکے ہیں، حتیٰ کہ ہماری خفیہ ایجنسیاں بھی حسینہ کو خبردار نہ کر سکیں۔”

طاقت کا جزیرہ: سینٹ مارٹن کا راز

کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ساری سازش کا ایک بڑا مقصد سینٹ مارٹن جزیرے پر اثرورسوخ قائم کرنا تھا — وہی جزیرہ جو خلیج بنگال میں میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہے اور جس کی جغرافیائی اہمیت امریکا کے لیے کسی سونے کی کان سے کم نہیں۔
حسینہ نے اقتدار سے محروم ہونے سے قبل کہا تھا، “اگر میں یہ جزیرہ امریکا کے حوالے کر دوں تو شاید میری حکومت بچ جائے، مگر یہ قوم کی خودمختاری کا سودا ہوگا۔”

اپنوں کے ہاتھوں شکست

کتاب میں کہا گیا ہے کہ جنرل واکر نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے اسلامی انتہا پسند گروہوں اور جماعتِ اسلامی سے خفیہ سمجھوتہ کیا۔ مصنفین کے مطابق، جیسے مہابھارت میں ابھمنیو کو اپنے ہی لوگوں نے گھیر لیا تھا، ویسے ہی حسینہ کو ان کے قریبی لوگوں نے چاروں طرف سے مفلوج کر دیا۔

جون 2024 میں جنرل واکر نے فوج کی کمان سنبھالی، اور صرف دو ماہ بعد، 5 اگست کو شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

دھوکے کا لمحہ

جب دارالحکومت میں حالات بگڑنے لگے، وزیر داخلہ نے پولیس کو متحرک کرنے کی تجویز دی، مگر فوجی سربراہ نے کہا: “عوام اب پولیس پر نہیں، فوج پر یقین رکھتے ہیں۔”
اس رات حسینہ نے اپنے رشتہ دار پر بھروسہ کیا، اور اگلی صبح اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

فوج پر بڑھتے سوال

کتاب کی اشاعت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بنگلہ دیشی فوج خود دباؤ میں ہے۔ حالیہ دنوں میں 15 افسران کو حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر سابق حکومت کے دور میں مخالفین کے اغوا میں ملوث تھے۔ عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے اور جنرل واکر کو اپنا بیرونی دورہ بھی منسوخ کرنا پڑا۔

ڈھاکا کے سیاسی منظرنامے پر اب ایک ہی سوال گونج رہا ہے —
کیا شیخ حسینہ کو گرایا گیا، یا وہ خود ایک عالمی شطرنج کے مہرے بن گئیں؟

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *